غزہ میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں صیہونی بمباری سے 48 مزید فلسطینی شہید
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
فلسطینی وزارت صحت کے مطابق غزہ میں 18 مارچ سے دوبارہ شروع ہونیوالے وحشیانہ اسرائیلی حملوں میں اب تک 2502 فلسطینی شہید اور 6711 زخمی ہوئے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ غزہ کی پٹی میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران وحشیانہ اسرائیلی بمباری سے مزید 48 فلسطینی شہید ہوگئے۔ غزہ سے فلسطینی وزارت صحت نے اپنے بیان میں بتایا کہ 142 فلسطینی انسانیت کے خلاف ان حملوں میں زخمی ہوئے ہیں۔ فلسطینی وزارت صحت کے مطابق غزہ میں 18 مارچ سے دوبارہ شروع ہونے والے وحشیانہ اسرائیلی حملوں میں اب تک 2502 فلسطینی شہید اور 6711 زخمی ہوئے ہیں۔ وزارت صحت کے مطابق اکتوبر 2023ء سے اسرائیلی حملوں میں 52 ہزار 615 فلسطینی شہید ہوچکے، اکتوبر 2023ء سے اسرائیلی حملوں میں 1 لاکھ 18 ہزار 752 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے دوران 14 ہزار سے زائد فلسطینی تاحال لاپتہ ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسرائیلی حملوں میں زخمی ہوئے ہیں فلسطینی شہید
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔