کوئٹہ، تحریک تحفظ آئین کا اجلاس منعقد، 11 مئی کو ریلی نکالی جائیگی
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
اجلاس میں ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ و دیگر کی رہائی، کرم کے مسائل حل کرنیکا مطالبہ اور 11 مئی کو احتجاجی ریلی نکالنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان بلوچستان کے اہم اجلاس کا انعقاد صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں پشتونخوا میپ کے دفتر میں ہوا۔ جس کی صدارت بی این پی کے مرکزی رہنماء اختر حسین لانگو نے کی۔ اجلاس میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنماء علامہ مقصود علی ڈومکی، ضلعی جنرل سیکرٹری غلام حسین اخلاقی اور ضلعی رہنماء غلام فرید، بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماء غلام نبی مری، چیئرمین عبدالواحد بلوچ، پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی جنرل سیکرٹری جہانگیر رند اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنماؤں سمیت دیگر رہنماء شریک ہوئے۔ اس موقع پر بلوچستان میں سیاسی کارکنوں اور خواتین کی گرفتاری، ضلع کرم میں بد امنی کی صورتحال اور دیگر مسائل پر گفتگو ہوئی۔ انہوں نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ و دیگر کی رہائی کا مطالبہ کیا اور مرکزی قیادت کے فیصلے کے مطابق 11 مئی کو احتجاجی ریلی نکالنے پر اتفاق کیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نے سیاسی کارکنوں اور خواتین کی گرفتاری کو عوام کی آواز دبانے کی مذموم کوشش قرار دی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضلع کرم کے لاکھوں عوام گذشتہ کئی ماہ سے بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہیں، جبکہ پارا چنار کا راستہ عوام کے لئے مکمل طور پر غیر محفوظ ہو چکا ہے جہاں دھشت گردوں کی جانب سے روزانہ نہتے شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماء اختر حسین لانگو نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت تمام سیاسی کارکنان اور خواتین کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی کی آواز دبانے کے لیے میڈیا پر ہماری کوریج روکی جا رہی ہے، جو کہ جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔ اجلاس کے اختتام پر فیصلہ کیا گیا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان مرکز کے فیصلے کے مطابق اتوار 11 مئی کو ملک بھر کی طرح بلوچستان میں بھی یوم احتجاج منایا جائے گا۔ کوئٹہ میں میٹروپولیٹن سے عظیم الشان احتجاجی ریلی نکالی جائے گی، جو منان چوک پر جلسہ عام کی صورت اختیار کرے گی۔ جس میں سیاسی و مذہبی کارکنان اور عوام کی بڑی تعداد شرکت کرے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مئی کو
پڑھیں:
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
فائل فوٹو۔بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز کے دوران بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 17دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے یہ آپریشنز 24 مئی کے ٹرین واقعہ کے بعد کیے، جو مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ کے اضلاع میں کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی ہلاکت سے ان علاقوں میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو بہت زیادہ نقصان ہوا، ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بڑی مقدار میں بارودی مواد اور آئی ای ڈیز برآمد کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔ ان علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی ملک گیر انسدادِ دہشت گردی مہم بھرپور انداز میں جاری رہے گی اور ملک سے بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔