اجلاس میں ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ و دیگر کی رہائی، کرم کے مسائل حل کرنیکا مطالبہ اور 11 مئی کو احتجاجی ریلی نکالنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان بلوچستان کے اہم اجلاس کا انعقاد صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں پشتونخوا میپ کے دفتر میں ہوا۔ جس کی صدارت بی این پی کے مرکزی رہنماء اختر حسین لانگو نے کی۔ اجلاس میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنماء علامہ مقصود علی ڈومکی، ضلعی جنرل سیکرٹری غلام حسین اخلاقی اور ضلعی رہنماء غلام فرید، بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماء غلام نبی مری، چیئرمین عبدالواحد بلوچ، پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی جنرل سیکرٹری جہانگیر رند اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنماؤں سمیت دیگر رہنماء شریک ہوئے۔ اس موقع پر بلوچستان میں سیاسی کارکنوں اور خواتین کی گرفتاری، ضلع کرم میں بد امنی کی صورتحال اور دیگر مسائل پر گفتگو ہوئی۔ انہوں نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ و دیگر کی رہائی کا مطالبہ کیا اور مرکزی قیادت کے فیصلے کے مطابق 11 مئی کو احتجاجی ریلی نکالنے پر اتفاق کیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نے سیاسی کارکنوں اور خواتین کی گرفتاری کو عوام کی آواز دبانے کی مذموم کوشش قرار دی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضلع کرم کے لاکھوں عوام گذشتہ کئی ماہ سے بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہیں، جبکہ پارا چنار کا راستہ عوام کے لئے مکمل طور پر غیر محفوظ ہو چکا ہے جہاں دھشت گردوں کی جانب سے روزانہ نہتے شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماء اختر حسین لانگو نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت تمام سیاسی کارکنان اور خواتین کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی کی آواز دبانے کے لیے میڈیا پر ہماری کوریج روکی جا رہی ہے، جو کہ جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔ اجلاس کے اختتام پر فیصلہ کیا گیا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان مرکز کے فیصلے کے مطابق اتوار 11 مئی کو ملک بھر کی طرح بلوچستان میں بھی یوم احتجاج منایا جائے گا۔ کوئٹہ میں میٹروپولیٹن سے عظیم الشان احتجاجی ریلی نکالی جائے گی، جو منان چوک پر جلسہ عام کی صورت اختیار کرے گی۔ جس میں سیاسی و مذہبی کارکنان اور عوام کی بڑی تعداد شرکت کرے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مئی کو

پڑھیں:

کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار

ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن