پنجاب پبلک سروس کمیشن کی جانب سے پنجاب انفورسمنٹ کےحتمی نتائج کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
قیصر کھوکھر : پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی میں انفورسمنٹ افسر لاہور ریجن کی اسامیوں کے بھرتی کا عمل مکمل ہو گیا، پنجاب پبلک سروس کمیشن کی جانب سے حتمی نتائج کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
ترجمان پنجاب پبلک سروس کمیشن کے مطابق انفورسمنٹ افسر لاہور ریجن کیلئے 54 امیدوار کامیاب ہوئے ہیں، کامیاب امیدواروں میں محمد راحیل، فرقان احسن، محمد عمید، اسامہ امتیاز، مبشر احمد معاج، محمد اسامہ شبیر، سحرش نذیر، محمد رؤف، احمد شاہ مسعود، علی رضا، ذبیح اللہ، احمد یار، حسین ارشد، شاہ حسین کاظمی، احسن ذوالفقار، آفاق اصغر، افضل پنو، ارسلان حیدر، سباحت جبین، محمد حمزہ طاہر، ملیحہ محسن، خاقان علی خان، عدنان علی ورک، محمد عدنان، محمد عارف، محمد عثمان امین، شعیب اسلم، محمد عثمان بسرا، محمد سلیم، عاشر منظور، حافظ محمد عثمان قمر، بلال جاوید، ابو ہریرہ، نوشین زبیر، محمد ایاز، محمد یاسر، شکیل احمد، محمد نیاب فاروق سعید، تسکین خالد، ثناء بی بی، توقیر آصف، فَروہ مقبول، محمد عرفان، عائشہ ریاض، حافظ محمد بلال، محمد عدنان ارشد، صدی احمد، محمد عاقب خان خالد، راشد بلال، محمد عاطف، حافظ محمد انعام اللہ، عامر حسین، احمر بن ساجد، بلال احمد زاہد شامل ہیں۔
میچ کے دوران بولر دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگیا
Ansa Awais Content Writer.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔