منگل کی شب پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر میں انڈیا کی جانب سے کیے گئے حملوں کے بعد جہاں دونوں ممالک کے حکام کی جانب سے اس ضمن میں تفصیلات فراہم کرنے کا سلسلہ جاری ہے وہیں پاکستان اور انڈیا میں سوشل میڈیا پر بھی ٹاپ ٹرینڈز میں یہی معاملہ سرفہرست ہے۔دونوں ممالک میں سوشل میڈیا اور روایتی میڈیا پر ایک دوسرے کے جانی و مالی نقصانات سے متعلق غیرمصدقہ اور بڑھا چڑھا کر دعوے پیش کیے جا رہے ہیں جبکہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی مدد سے بنائی گئی متعدد فیک تصاویر اور ویڈیوز بھی زیر گردش ہیں۔تاہم ایک ہیش ٹیگ جس کے تحت دونوں ممالک میں تبصرے کیے جا رہے ہیں وہ ’سندور‘ سے متعلق ہے اور اس ٹرینڈ کی ابتدا اس وقت ہوئی جب انڈین فوج کی جانب سے بتایا گیا کہ انھوں نے پاکستان کے خلاف حملوں کو 'آپریشن سندور' کا نام دیا ہے اور انڈین میڈیا میں اس نام کو بہت معنی خیز قرار دیا جا رہا ہے۔اس ضمن میں انڈین آرمی اور انڈین وزیر خارجہ جے شنکر کے آفیشل اکاؤنٹس سے ایک تصویر بھی پوسٹ کی گئی ہے جس میں انگریزی کے حروف میں ’آپریشن سندور‘ لکھا ہوا ہے۔ اس میں انگریزی کے ایک لفط ’او‘ کی جگہ ایک گول پیالہ ہے جس میں سندور بھرا ہے جبکہ دوسرے ’او‘ میں موجود سندور پیالے سے باہر چھلک رہا ہے۔واضح رہے کہ انڈیا میں ہندو عقیدے کے مطابق سندرو کسی خاتون کے شادی شدہ ہونے کی دلیل ہوتی ہے جبکہ شوہر کی موت پر ماتھے سے سندور ہٹا دیا جاتا ہے اور اسے مانگ سونی ہونا یا مانگ کا اجڑنا کہتے ہیں۔
'آپریشن سندور' کیا ہے؟
انڈین فوج کی کرنل صوفیہ قریشی نے بدھ کی صبح آپریشن سندور سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ یہ 22 اپریل کو ’پہلگام میں ہونے والے حملے کا درست فوجی ردعمل تھا جو کہ معتبر انٹیلیجنس کی بنیاد پر کیا گیا۔‘انھوں نے دعویٰ کیا کہ آپریشن سندور کے تحت کالعدم لشکر طیبہ سمیت دیگر کالعدم عسکریت پسند تنظیموں کے اڈوں اور تربیتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ تاہم پاکستان میں فوجی اور سیاسی حکام نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مساجد اور شہری علاقوں پر ہونے والے ان حملوں کے نتیجے میں بچوں اور خواتین سمیت 26 عام شہری ہلاک جبکہ 46 زخمی ہوئے ہیں۔کرنل صوفیہ قریشی نے کہا کہ ’ان کیمپوں کا انتخاب دستیاب انٹیلیجنس کا بغور جائزہ لینے کے بعد کیا گیا اور یہ خیال رکھا گيا کہ صرف دہشت گرد تنصیبات کو ہی نشانہ بنایا جائے۔ ان کیمپوں کو نشانہ بنایا گيا جہاں سے ماضی میں ہندوستان کے خلاف دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔‘ یاد رہے کہ پاکستان اس نوعیت کے الزامات کی ماضی میں بارہا تردید کر چکا ہے اور کا کہنا ہے کہ انڈین حملوں میں عام شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا۔انڈیا کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ اس کی مسلح افواج اور فضائیہ نے رات ایک بج کر پانچ منٹ پر ’آپریشن سندور‘ کے تحت پاکستان اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں نو اہداف، جنھیں ’دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے‘ کہا گیا، پر ٹارگیٹڈ حملے کیے ہیں۔ پاکستانی فوج نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان حملوں میں معصوم شہریوں اور مساجد کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: کو نشانہ بنایا ہے اور

پڑھیں:

والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے

سوشل میڈیا کی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ’میٹا‘ نے دنیا بھر میں انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر استعمال کرنے والے کم عمر صارفین کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے سخت ترین پابندیوں کا باقاعدہ اطلاق کر دیا ہے۔ ان نئی پالیسیوں کا مقصد نوجوانوں کو نامناسب مواد اور آن لائن ہراسانی سے بچانا ہے۔

دنیا بھر میں نئی سیٹنگز کا فوری اطلاق

کمپنی کی جانب سے جاری کردہ آفیشل بیان کے مطابق انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر پر 13 سال سے زیادہ عمر کے ’ٹین ایج‘ اکاؤنٹس پر مواد کے حوالے سے نئی اور زیادہ سخت سیٹنگز لاگو کر دی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:میٹا نے واٹس ایپ، فیس بک اور انسٹاگرام کے بامعاوضہ فیچرز متعارف کرا دیے

واضح رہے کہ ان سخت ترین سیکیورٹی فیچرز کو سب سے پہلے اکتوبر 2026 میں امریکا، آسٹریلیا، برطانیہ اور کینیڈا میں آزمائشی طور پر متعارف کرایا گیا تھا تاہم اب 2 جون سے اس کا دائرہ کار دنیا بھر کے تمام ممالک تک پھیلا دیا گیا ہے۔

نامناسب مواد اور سرچ رزلٹس پر مکمل بلاکنگ

نئی تبدیلیوں کے تحت اب کم عمر صارفین ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا مواد نہیں دیکھ سکیں گے اور نہ ہی انہیں فالو کر سکیں گے جو اکثر اور بیشتر غیر اخلاقی یا نامناسب مواد شیئر کرتے ہیں۔

میٹا کا کہنا ہے کہ ایسے تمام مشکوک اور غیر موزوں اکاؤنٹس کو 18 سال سے کم عمر صارفین کی تجاویز(ریکومینڈیشنز) اور تلاش کے نتائج (سرچ رزلٹس) میں مکمل طور پر بلاک کر دیا جائے گا تاکہ بچے ان تک پہنچ ہی نہ سکیں۔

الائس کمپنی کے ساتھ اشتراک اور سرچ پر پابندی

’میٹا‘  نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی مشہور عالمی تنظیم ’سیفٹی کمپنی الائس‘ کے ساتھ مل کر مستقبل میں بھی کم عمر صارفین سے متعلق نئے فیچرز کو تیار اور ٹیسٹ کرے گی۔

یاد رہے کہ اکتوبر میں جب انسٹاگرام پر اس سیٹنگ کا آغاز ہوا تھا، تو یہ واضح کیا گیا تھا کہ کم عمر صارفین کو مخصوص سرچ اصطلاحات، جیسے نشہ آور اشیا کے استعمال اور دیگر نقصان دہ موضوعات کو سرچ کرنے سے بھی سختی سے روک دیا جائے گا۔

’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ اور والدین کا کنٹرول

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بچوں کو محفوظ ماحول دینے کے لیے ’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ کا فیچر بھی متعارف کرایا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا

اس فیچر کے تحت اب والدین کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ اپنے بچوں کو پلیٹ فارم پر کسی بھی تبصرے (کمنٹس) تک رسائی حاصل کرنے سے روک سکیں۔

یہاں تک کہ اس سیٹنگ کے فعال ہونے کے بعد کم عمر صارفین خود اپنی پوسٹس پر آنے والے کمنٹس کو بھی نہیں دیکھ سکیں گے، جس سے وہ کسی بھی قسم کی آن لائن ٹرولنگ یا منفی تبصروں سے محفوظ رہیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اشتراک الائس کمپنی انسٹاگرام بچوں بک پابندی سرچ سوشل میڈیا سیٹنگ عائد فیس فیس بک لمیٹڈ کانٹینٹ میٹا والدین

متعلقہ مضامین

  • ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟