آرمی ایکٹ کی اصل شکل میں بحالی، جسٹس مندوخیل و جسٹس نعیم افغان کا اختلافی نوٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
آرمی ایکٹ کی اصل شکل میں بحالی، جسٹس مندوخیل و جسٹس نعیم افغان کا اختلافی نوٹ جاری WhatsAppFacebookTwitter 0 7 May, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)سپریم کورٹ آف پاکستان کے آرمی ایکٹ کو اس کی اصل شکل میں بحال کرنے کے فیصلے سے اختلاف کرنے والے 2 ججز جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس نعیم اختر افغان نے اختلافی نوٹ جاری کر دیا۔
ججز کا مختصر اختلافی نوٹ 2 صفحات پر مشتمل ہے جس میں لکھا گیا ہے کہ آرمی ایکٹ آرمڈ فورسز کیلئے ہے۔اختلافی نوٹ کے مطابق آرٹیکل 175 کے تحت عدالتوں کے قیام اور اختیارات واضح ہیں، عدالتی نظام ایگزیکٹیو سے مکمل الگ ہے۔
دونوں ججز نے اختلافی نوٹ میں کہا ہے کہ آئین اور اسلام میں شفاف ٹرائل اور معلومات تک رسائی کا حق دیا گیا ہے۔اختلافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ آئین کا آرٹیکل 10 اے اور آرٹیکل 25 بالکل واضح ہے، 9 مئی کے ملزمان کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس نعیم اخترافغان نے اختلافی نوٹ میں کہا ہے کہ 9 مئی کے تمام کیسز عام عدالتوں میں چلائے جائیں۔اختلافی نوٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گرفتار ملزمان کا درجہ انڈر ٹرائل قیدی کا ہو گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرصورتحال کشیدہ، بھارتی آبی ذخائر کو نشانہ بنانا بھی ایک آپشن ہو سکتا ہے، خواجہ آصف صورتحال کشیدہ، بھارتی آبی ذخائر کو نشانہ بنانا بھی ایک آپشن ہو سکتا ہے، خواجہ آصف لاہور کے روٹس پھر بند، اسلام آباد ائیرپورٹ پر فضائی آپریشن بحال فوج نے پانچ بھارتی جہاز ایسے گرائے جیسے مچھر ہوں ، بھارت ہمارے جواب کیلئے تیار رہے ، بلاول بھٹو پاکستان سپر لیگ کے میچز شیڈول کے مطابق جاری رہیں گے، پی سی بی بھارتی ناظم الامور کی دفترخارجہ طلبی، جارحیت پر احتجاج ریکارڈ پاکستان نے بھارت کو جواب دے کر تاریک رات کو چاندنی رات بنادیا،وزیراعظم کا قومی اسمبلی میں خطابCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: آرمی ایکٹ
پڑھیں:
سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔
سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔
سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔
سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔