میرا خیال ہے پاکستان کو بھارت کا ادھار چکا دینا چاہیے، خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ میرا خیال ہے پاکستان کو بھارت کا ادھار چکا دینا چاہیے۔
جیو نیوز کے پروگرام آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کے دوران خواجہ آصف نے کہا کہ بھارت نے آج دن میں بھی کچھ شہروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے پاکستان کو بھارت کا ادھار چکا دینا چاہیے ،یہ حساب ہمیں چکانا پڑے گا ،ہم خود بھی کوئی ابتدا کرسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے بھارت جارح اور پاکستان متاثرہ ملک، ہم دفاع کا حق رکھتے ہیں، بلاول بھٹو زرداری بھارتی حملوں میں 31 معصوم شہری شہید، 57 زخمی ہوئے ہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر بھارت نے گزشتہ رات جارحیت کرکے فاش غلطی کی، اسے خمیازہ ضرور بھگتنا ہوگا، وزیر اعظم شہباز شریف آرمی چیف کا ایئر ہیڈکوارٹرز کا دورہ، پاک فضائیہ کے سربراہ سے ملاقات اور ایئر فورس کو خراج تحسینخواجہ محمد آصف نے مزید کہا کہ اب اگر ہم بھارت کو کوئی جواب دیں تو ہمارے پاس معقول جواز بھی ہے، ہم بھارت میں شہریوں کو نشانہ نہیں بنائیں گے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ہم آبادی کو ٹارگٹ کرسکتے تھے لیکن ہم نے صرف ملٹری ٹارگٹس کو نشانہ بنایا، کالعدم بی ایل اے اور ٹی ٹی پی مودی کے ہاتھ سے پیسا اور نوالہ کھاتے ہیں۔
وزیر دفاع نے یہ بھی کہا کہ بھارت کا کبھی نیپال، کبھی سری لنکا تو کبھی بنگلا دیش سے جھگڑا رہتا ہے، نئی دہلی کا خطے میں موجود تمام ہمسائیوں سے جھگڑا رہتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بھارت کا
پڑھیں:
کم از کم ماہانہ اجرت کتنی ہونی چاہیے؟ نئے مالی سال کے لیے سفارش کردی گئی
نئے مالی سال کے لیے کم از کم اجرت مقرر کرنے کے حوالے سے نئی سفارش سامنے آ گئی۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے مالی سال 27-2026 کے لیے ملک میں کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی باضابطہ سفارش کر دی ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق پائیڈ نے اپنے شواہد پر مبنی فریم ورک کے ذریعے موجودہ 40 ہزار روپے کی تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ یہ تجویز قومی سطح پر ملازمین کے مالی حالات کو بہتر بنانے اور معاشی استحکام کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ کم از کم اجرت کا تعین اب صرف محکمۂ محنت کا داخلی معاملہ نہیں رہا، بلکہ یہ فیصلہ ملکی معیشت کے وسیع تر پہلوؤں پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ اس میں شہریوں کی قوتِ خرید، غربت کی شرح، غیر رسمی روزگار اور مقامی طلب جیسے اہم عوامل شامل ہیں۔
ادارے نے مزید واضح کیا کہ تنخواہوں میں یہ ردوبدل پیداواری ترغیبات بڑھانے اور سماجی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026 کے جولائی سے اپریل تک اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ اپریل 2026 میں سال بہ سال بنیادوں پر افراطِ زر کی شرح 10.9 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔