سپریم کورٹ آئینی بنچ کے فیصلے نے آئینی عمارت منہدم کر دی
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی 2025ء ) سلمان اکرم راجہ کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ آئینی بنچ کے فیصلے نے آئینی عمارت منہدم کر دی ، فیصلے نے اجازت دے دی کہ کوئی افسر بند کمروں میں سویلینز کا ٹرائل کر کے 14 سال 10 سال یا بعض کیسوں میں سزائے موت بھی دے سکتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے آئینی بنچ کی جانب سے ملٹری کورٹس میں سویلینز کے ٹرائل کی اجازت دینے کے فیصلے پر تحریک انصاف کے سینئر رہنما سلمان اکرم راجہ نے ردعمل دیا ہے۔
سلمان اکرم راجہ کا کہنا ہے کہ آج کے فیصلے نے آئینی عمارت منہدم کر دی ہے آج کے فیصلے نے اجازت دے دی ہے کہ کرنل صاحب یا میجر صاحب سویلینز کے ٹرائل بند کمروں میں کر کے 14 سال 10 سال یا بعض کیسوں میں سزائے موت بھی دے سکتے ہیں ۔ ان عدالتوں میں کس بنیاد پر سویلین کے ٹرائلز ہونگے؟ کسی نے صرف الزام لگانا ہے کہ فلاں نے فلاں عمارت تک پہنچنے کی کوشش کی یا فلاں عمارت تک پہنچ گیا یہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی ہے لہذا اس کا ٹرائل اب ملٹری کورٹ میں ہو اور آپ کے خلاف فیصلہ آئے گا فیصلہ بھی ایسا کہ Guilty or not guilty کوئی فئیر ٹرائل نہیں ہونا اوپر سے حکم آئے گا اتنوں کو سزا سنا دو اور اس کی کوئی اپیل نہیں۔(جاری ہے)
انہوں نے مزید کہا کہ آئین کا آرٹیکل 175(3) پاکستان کے آئین میں انقلاب تھا اس سے پہلے بہت سارے علاقوں میں کمشنر اور ڈپٹی کمشنر عدالت لگایا کرتے تھے یہاں تک کہ کچھ علاقوں میں سزائے موت کا اختیار بھی کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کے پاس تھا ۔ دوسری جانب سویلینز کے ملٹری کورٹس میں ٹرائل سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پہ پاکستان تحریک انصاف نے بھی تفصیلی ردعمل جاری کیا ہے۔ تحریک انصاف کی جانب سے جاری تفصیلی بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف سپریم کورٹ کے فیصلے کو آئین کے ساتھ مذاق، جمہوریت پر حملہ، قومی یکجہتی کو نقصان کے مترادف سمجھتی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف سپریم کورٹ کے اُس فیصلے کو افسوسناک تصور کرتی ہے جس کے تحت سویلین شہریوں کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں ممکن قرار دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 10-A، 175(3) اور 9 کی صریح خلاف ورزی ہے، بلکہ بنیادی انسانی حقوق، بین الاقوامی معاہدات اور جمہوری اقدار کے بھی خلاف ہے۔ آج یہ سوال ہر پاکستانی کے ذہن میں ہے کی 2023 میں سپریم کورٹ کے 12 رکنی بنچ میں سے 7 ججز کہہ چکے ہیں کہ سویلینز کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل غیر آئینی ہے، تو پھر 5 ججز کی اقلیتی رائے اور 7 ججز کا بنچ کس بنیاد پر نافذ کی جا رہی ہے؟ یہ عدالتی فیصلہ ہے یا کسی اور دباؤ کا نتیجہ؟ تحریک انصاف واضح کرتی ہے کہ فوجی افسر جج نہیں ہو سکتا، اور بند دروازوں کے پیچھے ہونے والا ٹرائل، "اوپن کورٹ" نہیں کہلا سکتا۔ یہ فیصلہ انصاف نہیں بلکہ 26 ویں ترمیم کا شاخسانہ ہے۔ اور سب سے بڑھ کر، یہ فیصلہ قومی یکجہتی کے اس بیانیے کو بھی سبوتاژ کرتا ہے جسے حکومت خاص طور پہ پہلگام واقعے کے بعد روزانہ اس کا درس دیتی ہے۔ کل رات بھارت کی جارحیت کے بعد حکومت دو ہفتوں سے مسلسل اپوزیشن، خصوصاً عمران خان سے قومی یکجہتی کے نام پر حمایت مانگ رہی ہے۔ آج قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے اراکین نے وزیراعظم کی تقریر خاموشی سے سنی، صرف اس لیے کہ بھارت اور دنیا کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ ہم کسی بھی بیرونی حملے کے خلاف یکجا اور متحد ہیں۔ لیکن ہمیں خدشہ ہے کہ یہ افسوسناک فیصلہ صرف اس لئے آیا تاکہ سابق وزیر اعظم عمران خان کو اس قانون کی آڑ میں فوجی عدالتوں کے ذریعے زبردستی سزا دلوائی جا سکے۔ عدلیہ کی جانب سے یہ فیصلہ دینا کہ سویلینز کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں ہو سکتا ہے کیا یہ قومی یکجہتی کو تقویت دے گا یا اسے کمزور کرے گا؟ یہ فیصلہ تو واضح پیغام دیتا ہے کہ حکومت ایک طرف یکجہتی کی بات کرتی ہے، دوسری طرف اپوزیشن کو فوجی عدالتوں کے سپرد کر کے سیاسی انتقام کا ایندھن بناتی ہے۔ سویلین کا ٹرائل صرف سویلین عدالت میں ہو سکتا ہے ورنہ یہ ملک قانون نہیں، لاٹھی کے زور پر چلے گا۔ ہم اس فیصلے کے خلاف ہر آئینی، سیاسی اور عوامی محاذ پر آواز بلند کریں گے کیونکہ یہ صرف تحریک انصاف کا نہیں، آئین اور جمہوریت کا مقدمہ ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے سپریم کورٹ کے فوجی عدالتوں تحریک انصاف عدالتوں میں قومی یکجہتی کے فیصلے نے کا ٹرائل یہ فیصلہ
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔