صدر جنرل اسمبلی کی انڈیا اور پاکستان سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 08 مئی 2025ء) اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر فائلیمن یانگ نے انڈیا اور پاکستان کے مابین کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل سے کام لیں اور تناؤ میں کمی لائیں۔
انہوں نے دہشت گردی کی تمام کارروائیوں اور شہریوں اور شہری تنصیبات کے خلاف حملوں کی مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بات چیت اور اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے تحت مسائل کا سفارتی حل ہی اختلافات کو ختم کرنے اور پائیدار امن و استحکام کے حصول کا واحد راستہ ہے۔
جموں و کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام پر 22 اپریل کو ہوئے دہشت گرد حملے میں 26 افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوئے تھے۔ اس واقعہ کے بعد دونوں ہمسایہ ملکوں میں سخت کشیدگی پائی جاتی ہے۔
(جاری ہے)
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے گزشتہ روز لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد کے پار انڈیا کی فوجی کارروائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انڈیا اور پاکستان کو انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرنے کو کہا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا انڈیا اور پاکستان کے درمیان ملٹری تصادم کی متحمل نہیں ہو سکتی۔اس سے قبل پہلگام واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل نے ذمہ داران کو قابل بھروسہ اور قانونی طریقہ کار کے ذریعے انصاف کے کٹہرے میں لاکھڑا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ وہ دونوں ممالک کی حکومتوں اور لوگوں کا بے حد احترام کرتے ہیں اور ان کے مشکور ہیں جنہوں نے اقوام متحدہ کے لیے امن کاری سمیت کئی طرح کا مفید اور نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ تاہم ان کے مابین تعلقات کو کشیدہ دیکھنا تکلیف دہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے انڈیا اور پاکستان اقوام متحدہ
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز