لاہور ایئرپورٹ کے قریب ایک بھارتی ڈرون مار گرایا
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
رانا فاران یامین: پولیس ذرائع کے مطابق لاہور ایئرپورٹ کے قریب ایک بھارتی ڈرون کو کامیابی سے مار گرایا گیا , ڈرون کی لمبائی تقریباً 5 سے 6 فٹ بتائی جا رہی ہے اور اسے سرحد پار سے آپریٹ کیا جا رہا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈرون کو پاکستانی سیکیورٹی سسٹم نے بروقت شناخت کرتے ہوئے سسٹم جام کر کے زمین پر گرایا۔ ڈرون انتہائی حساس مقامات کی جاسوسی کے لیے بھیجا گیا تھا اور اس میں دھماکہ خیز مواد بھی موجود تھا۔
ملتان؛ پاک فوج کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیلئے ریلی نکالی گئی
مزید بتایا گیا ہے کہ ڈرون جیسے ہی ایک اہم عمارت کے قریب پہنچا تو اسے گرانے کی کوشش کے دوران شدید دھماکا ہوا تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بروقت کارروائی سے ایک بڑا سانحہ ٹل گیا ہے۔ سیکیورٹی ادارے جائے وقوعہ پر موجود ہیں اور واقعے کی مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ ڈرون کی ساخت اور اس میں موجود مواد کا تجزیہ کیا جا رہا ہے تاکہ بھارت کی طرف سے ممکنہ خطرات اور مقاصد کو سمجھا جا سکے۔
ضلع خیبر باڑہ ؛ قبائلی مشران، پولیس سمیت نوجوانوں نے بڑی ریلی نکالی
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔