لاہور: برکی اور والٹن کے علاقے میں دھماکوں کی آوازیں، لوگ گھروں سے باہر نکل آئے
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
لاہور کے علاقے برکی اور والٹن میں دھماکے سنے جانے کے بعد لوگ گھروں سے باہر نکل آئے۔
ریسکیو اور فائر ٹینڈر واقعے کی جگہ پہنچ گئے ہیں جبکہ اس حوالے سے اطلاعات اکٹھی کی جارہی ہیں۔
دوسری جانب گوجرانوالہ میں ڈرون مار گرایا گیا جس کا ملبہ نواحی گاؤں ٹوکریاں کے قریب کھیتوں سے ملا۔
علاوہ ازیں چکوال میں ڈھمن کے علاقے میں دیوالیاں کے قریب گرنے والے ڈرون کا ملبہ پولیس نے قبضے میں لے لیا ہے۔
ادھر گھوٹکی میں داد لغاری تھانے کی حدود میں ڈرون گرا۔
ایس ایس پی گھوٹکی کے مطابق واقعے میں 2 کسان زخمی ہوئے تھے جس کے بعد ان میں سے ایک اسپتال میں چل بسا۔
Post Views: 6.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔