UrduPoint:
2026-06-03@06:19:38 GMT

پاکستان نے آئی ایم ایف کی بیشتر شرائط پوری کر دیں

اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT

پاکستان نے آئی ایم ایف کی بیشتر شرائط پوری کر دیں

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 08 مئی2025ء)پاکستان نے مالی سال کے پہلے نو مہینوں (جولائی تا مارچ) کے دوران آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکیج کی بیشتر شرائط پر عملدرآمد کیا، تاہم وفاقی حکومت کے محصولات میں کمی اور ایف بی آر کی ناقص کارکردگی بڑے چیلنجز کے طور پر سامنے آئے ہیں۔وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ مالیاتی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے آئی ایم ایف کی پانچ میں سے تین بڑی مالیاتی شرائط کو پورا کیا۔

ایف بی آر مقررہ ہدف 9.

17 ٹریلین روپے کے مقابلے میں صرف 8.5 ٹریلین روپے ہی اکٹھا کر سکا، جس سے 715 ارب روپے کا خسارہ ہوا۔اسی طرح تاجر دوست سکیم کے تحت 36.7 ارب روپے کی وصولی کا ہدف مکمل طور پر ناکام رہا۔ اس کے برعکس، صوبائی حکومتوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور 1.028 ٹریلین روپے کا کیش سرپلس پیدا کیا، جو کہ آئی ایم ایف کے ہدف سے 25 ارب روپے زیادہ ہے۔

(جاری ہے)

رپورٹ کے مطابق سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان نے بہترین ٹیکس کلیکشن کی جبکہ پنجاب کی کارکردگی کا ذکر نمایاں طور پر نہیں کیا گیا۔وفاقی حکومت نے مالی سال کے پہلے نو مہینوں میں 11.5 ٹریلین روپے خرچ کیے، جن میں سے 6.4 ٹریلین روپے سود کی ادائیگیوں پر خرچ ہوئے، جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 921 ارب روپے زیادہ ہیں۔دفاعی اخراجات بھی 1.42 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے، جو کہ 16.5فیصد اضافے کو ظاہر کرتے ہیں۔

پیٹرولیم لیوی کی مد میں حکومت نے 834 ارب روپے جمع کیے، جو گزشتہ سال کے 720 ارب روپے کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ نان ٹیکس ریونیو بھی ہدف سے 71 ارب روپے زیادہ رہا، جس میں اسٹیٹ بینک کا منافع اہم کردار ادا کرتا ہے۔وزارت خزانہ کے مطابق ترقیاتی اخراجات 309 ارب روپے رہے، جو کہ 658 ارب روپے کے ہدف سے کم ہیں۔ سبسڈی کا اجرا بھی ہدف کے 49 فیصدتک محدود رہا، جس سے ترقیاتی منصوبے متاثر ہوئے۔آئی ایم ایف کے پروگرام کو کامیابی سے جاری رکھنے کیلئے محصولات میں بہتری اور مالیاتی نظم و ضبط کی ضرورت ہے، ورنہ ا?نے والے دنوں میں معاشی مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ا ئی ایم ایف ٹریلین روپے ارب روپے سال کے

پڑھیں:

حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔

(جاری ہے)

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔                                                                           

متعلقہ مضامین

  • رواں ماہ بجلی صارفین کو کتنا ریلیف ملے گا؟ پاور ڈویژن نے بتا دیا
  • سونے کی قیمت میں پھر ہوشربا اضافہ
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ