بھارتیوں نے احتجاج کرتے ہوئے سعودی عرب کا پرچم پیروں میں روند دیا، کلمہ کی توہین پوری مسلم دنیا میں شدید غصہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
نئی دہلی (نیوز ڈیسک) سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں بھارت میں کچھ افراد کو سعودی عرب کے قومی پرچم پر چلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جس پر کلمہ طیبہ درج ہے۔ یہ عمل دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو شدید مجروح کر رہا ہے۔ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ سعودی عرب کے پرچم جیسا ڈیزائن فرش پر بچھایا گیا ہے اور لوگ اس پر سے گزر رہے ہیں۔ اس پرکلمہ لکھا ہوا ہے جو کہ اسلام کا بنیادی عقیدہ اور مقدس ترین کلمات میں سے ہے۔دنیا بھر کے مسلمان اس واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
هذا الفيديو من الهند، حيث يمشون على علم المملكة العربية السعودية حيث كُتب كلمة "كالما"
مطلوب اتخاذ إجراء فوري@SaudiMOH @KingSalman @HHShkMohd pic.
— Al Faris Emirati (@Sheikhalfaris) May 8, 2025
مزیدپڑھیں:پاکستانی عوام ثانیہ مرزا کی جنگ کی حمایت کرنے پرسیخ پا
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔