پاکستانی سیکیورٹی ذرائع نے بھارتی میڈیا پر مقبوضہ کشمیر، پٹھان کوٹ، راجستھان اور پنجاب میں دھماکوں کی بریکنگ نیوز کو ’فیک نیوز‘ قرار دے دیا۔

پاکستان کے سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی میڈیا پر مقبوضہ کشمیر پر حملے کی خبریں فیک اور جھوٹ ہیں، فیک خبروں کو پھیلانے کا مقصد ناکام، جھوٹا تاثر پیدا کرنا ہے کہ پاکستان بھی بھارت پر حملہ کر رہا ہے۔

پاکستانی سیکیورٹی ذرائع نے کہا ہے کہ جھوٹی خبروں کو پھیلا کر بھارت پاکستان پر اپنی جارحیت جاری رکھنے کا مسلسل جھوٹا جواز پیدا کرنا چاہتا ہے، ان جھوٹی اور من گھڑت خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت نے اس سے قبل امرتسر پر حملے کی جھوٹی خبر پھیلائی، امرتسر پر حملے کی جھوٹی خبر پھیلانے کا مقصد سکھ برادری کو پاکستان کے خلاف کرنا تھا۔

پاکستانی سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اب بھارتی میڈیا مقبوضہ کشمیر میں حملوں کی جھوٹی خبر چلا رہا ہے، بھارتی میڈیا کا ایف 16 گرانے کا دعویٰ بھی جھوٹ پر مبنی ہے، بھارت کا مقبوضہ کشمیر میں حملوں کی جھوٹی خبر کا مقصد کشمیریوں میں پھوٹ ڈلوانا ہے۔

پاکستان نے حملہ کیا تو اس کی گونج پوری دنیا میں سنائی دے گی، ڈی جی آئی ایس پی آر

پاکستان بھارتی جارحیت کا اپنے طے کردہ وقت اور مقام پر جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے: اسحاق ڈار

پاکستانی سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بھارت جھوٹی خبروں کے ذریعے سکھوں اور کشمیریوں میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے، بھارت اپنے طیارے گرانے کی خفت مٹانے کے لیے ایف 16 گرانے کی جھوٹی خبر پھیلا رہا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع نے کہا ہے کہ جعلی خبروں سے بھارت مقامی میڈیا اور عالمی سطح پر جھوٹا بیانیہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے، پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں کوئی حملہ نہیں کیا، نہ اس کا کوئی طیارہ گرا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی میڈیا پر پاکستانی ایف 16 گرانے کی خبر سفید جھوٹ اور فیک نیوز ہے، آج ہیروپ ڈرون حملوں کی ناکامی کے بعد بھارت مزید بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔

سیکیورٹی ذرائع نے کہا ہے کہ بھارت اب راجستھان، پٹھان کوٹ اور مقبوضہ کشمیر میں خیالی حملے میڈیا کے ذریعے بتا رہا ہے، ایسی خبروں سے بھارت پاکستان کے خلاف اگلی جارحیت کا جواز بنانا چاہتا ہے، افواجِ پاکستان بھارت کے تمام ناپاک عزائم کو ناکام بنانے کی پوری صلاحیت رکھتی ہیں۔

مقامی صحافی کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں ایسی کوئی صورتِ حال نہیں جو بھارتی میڈیا بتا رہا ہے۔

واضح رہے کہ بھارتی میڈیا نے فیک نیوز پھیلاتے ہوئے کہا تھا کہ بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس، ایئرپورٹ اور آرمی کیمپس کو نشانہ بنایا گیا ہے، دھماکوں کے بعد سائرن بجا دیے گئے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: پاکستانی سیکیورٹی ذرائع ہے سیکیورٹی ذرائع سیکیورٹی ذرائع نے بھارتی میڈیا پر کی جھوٹی خبر ہے کہ بھارت کہ بھارتی حملوں کی فیک نیوز رہا ہے

پڑھیں:

تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا