مقبوضہ کشمیر، گزشتہ دو ہفتوں کے دوران 28 سو سے زائد نوجوان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
بھارتی فورسز نے گرمائی دارالحکومت سرینگر میں بھی چھاپوں اور تلاشی کا سلسلہ بدستور جاری رکھا ہوا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز کیطرف سے محاصرے اور تلاشی کی پرتشدد کارروائیوں اور گھروں پر چھاپوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ بھارتی فورسز نے گرمائی دارالحکومت سرینگر میں بھی چھاپوں اور تلاشی کا سلسلہ بدستور جاری رکھا ہوا ہے۔ بھارتی فورسز اہلکاروں نے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر کریک ڈائون آپریشنز کے دوران 28 سو سے زائد کشمیری نوجوانوں کو حراست میں لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بھارتی فورسز اہلکار گھروں میں گھس کر خواتین اور بچوں سمیت مکینوں کو ہراساں کر رہے ہیں، قیمتی گھریلو اشیاء کی توڑ پھوڑ اور بنک اور جائیداد کی دستاویزات، موبائل فون، لیپ ٹاپ اور دیگر ڈیجیٹل آلات ضبط کر رہے ہیں۔ بے لگام بھارتی فورسز اہلکار چھاپوں کے دوران سونا اور پیسے بھی لوٹ رہے ہیں۔ سرینگر میں جن شہریوں کے گھروں پر چھاپوں کی اطلاعات ملی ہیں ان میں ساحل نثار گنائی، معراج الدین راتھر، غلام جیلانی بھٹ، دانش الطاف، قاضی عثمان، الطاف احمد ڈار، محمد آصف ناتھ، امیر احمد گوجری۔ مظفر احمد میر، رمیز احمد میر، بابر سہیل، عادل محمد لون، زاہد احمد الٰہی، بشیر احمد بھٹ، محمد ایوب پیرے، غلام رسول پیرے، غلام محمد بھٹ، عبدالاحد بٹ، ثنا اللہ بھٹ، توحید احمد بھٹ، محمد اشرف وانی، عبدالرحمن وانی، محمد علی وانی، گلزار احمد وانی، اشرف احمد وانی، محمد عاشق ملک، عبدالرشید ملک ولد غلام احمد ملک، شبیر احمد ملک، فاروق احمد پارے، بلال احمد ملک اور نثار احمد وانی شامل ہیں۔ سری نگر شہر میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران بھارتی فورسز کے اہلکاروں نے 100 سے زائد گھروں پر چھاپے مارے اور تلاشی لی۔
دریں اثناء کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں ایک بیان میں سری نگر اور وادی کشمیر کے دیگر حصوں اور جموں خطے میں محاصرے اور تلاشی کی پرتشدد کارروائیوں، گھروں پر چھاپوں، بلاجواز گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی سنگین صورتحال کا جائز لینے کے لیے اپنی ٹیم علاقے میں بھیجے۔ انہوں نے عالمی ادارے پر یہ بھی زور دیا کہ وہ بھارت کو ایک دہشت گرد ریاست قرار دے۔ ترجمان نے پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر میں رہائشی مکانات، مساجد اور مدارس سمیت آبادی والے علاقوں پر بھارتی حملوں کی بھی شدید مذمت کی۔ بیان میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل پر زور دیا گیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں جو خطے میں پائیدار امن و استحکام کی راہ میں بنیادی رکاوٹ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بھارتی فورسز اور تلاشی گھروں پر کے دوران
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔