بھارت کو عجلت میں نہیں، اپنے وقت پر جواب دیں گے، وزیر اطلاعات
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ لاہور مکمل طور پر محفوظ ہے اور ڈرونز سے کسی اور جگہ بھی کسی بڑے نقصانات کی اطلاعات نہیں ہیں۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ لاہور بالکل مکمل طور پر محفوظ ہے، ہم نے اہداف پر پہنچنے سے پہلے ان ڈرونز کو گرا دیا، ڈرونز سے کسی اور جگہ کسی بڑے نقصانات کی اطلاعات نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے اب تک 29 ڈرونز گرا دیے ہیں، اور ان ڈرونز سے کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا، ایک جگہ ہے جہاں فوجی مشینری تھی بس اسے کچھ نقصان پہنچا۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈرونز کے ذریعے بھارت کا ٹارگٹ پاکستان میں فوجی تنصیبات کو ہدف بنانا تھا، یہ ڈرونز اسرائیلی ٹیکنالوجی ہے جو ریڈار میں نہیں آتے۔ اس حملے میں ہمارے 4 فوجی جوان زخمی ہوئے ہیں۔
وزیر اطلاعات و نشریات نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بھارت میں سکھوں کے مقدس مقامات کو نقصان پہنچایا جاتا ہے جبکہ ہم سکھ برادری کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، ہم سکھ برادی کے مذہبی مقامات کی بہت عزت کرتے ہیں ، اس موجودہ کشیدہ صورتحال میں بھی ہم نے سکھوں کے ویزے کینسل نہیں کیے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت نے پاکستان کے خلاف سکھوں کے حوالے سے بے بنیاد دعوے اور پروپیگنڈا کیا ہے جس کی ہم تردید کرتے ہیں۔
وزیر اطلاعات و نشریات نے بتایا کہ ہم دنیا کو بتا رہے ہیں کہ بھارت کی جانب سے سویلین آبادی کو ٹارگٹ کیا گیا وزیر اعظم شہباز شریف کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے بات ہوئی ہے، اس تشویشناک صورتحال کے حوالے سے دنیا کو تحفظات ہیں جبکہ دیگر ممالک کوشش کر رہے ہیں کہ امن برقرار رہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت نے بزدلانہ حملے کیے، وزیر اعظم نے اپنی مذمت پہنچائی جبکہ پاکستان نے کہا کہ ہم ہر قیمت پر اپنا دفاع کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت پہلگام واقعے کی تحقیقات سے بھاگا، پاکستان کی بیانیے اور سفارتی اعتبار سے پوزیشن بہت مضبوط ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا مانتی ہے کہ پاکستان کے پاس اپنے دفاع کا حق ہے ، ہم اپنا دفاع کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ بھارت کو حملے کرنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا بھارت پاکستان کے جواب کا انتظار کر رہا ہے ، جب پاکستان کا جواب آئے گا تو بھارت کے ہوش ٹھکانے آئیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارتی جارحیت کا صرف ایک ہی رسپانس بنتا ہے ، جس کا وہ اب بس انتظار کرے ، اکستان کی جانب سے جواب آئے گا اور ضرور آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ رافیل طیارے گرنے کے بعد بھارتی فضائیہ کا موروال گر گیا ، ان کو توقع نہیں تھی کہ رافیل طیارے گر جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ عجلت میں یا فوری انتقام کی پالیسی درست نہیں ہوتی، بھارت کو جواب دینے کے لیے جگہ اور وقت کا تعین ہم کریں گے ۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کہا کہ وزیر اطلاعات کہ بھارت
پڑھیں:
ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔
نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔
مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔
آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔
کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔
کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔
تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔