''ہم نے خود فوٹیج کی تصدیق کی ہے،، بی بی سی نے رافیل طیارہ گرنے کی تصدیق کر دی، بھارت کو شرم سے پانی پانی کردیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
لندن(ڈیلی پاکستان آ ن لائن)برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے بھارت کے رافیل طیارہ تباہ ہونے کی تصدیق کردی ۔بی بی سی کی روپورٹ کے مطابق اسلام آباد کے حکام کا دعویٰ ہے کہ پاکستانی فورسز نے بدھ کی صبح پانچ بھارتی لڑاکا طیارے مار گرائے۔ بھارت نے اس معاملے پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا۔تاہم بی بی سی ویریفائی نے تین ایسی ویڈیوز کی تصدیق کی ہے جن میں فرانسیسی ساختہ رافیل طیارے کا ملبہ دکھایا گیا ہے، جو بھارتی فضائیہ کے زیرِ استعمال ہیں۔بی بی سی ویریفائی کے مطابق، ایک ویڈیو میں بھارتی پنجاب کے شہر بھٹندا کے قریب ایک کھیت میں ملبہ دکھایا گیا ہے جہاں فوجی اہلکار ملبہ اکٹھا کرتے نظر آ رہے ہیں۔اسی مقام سے رات کے وقت فلمائی گئی مزید دو ویڈیوز بھی موصول ہوئی ہیں۔ ایک میں کھیت میں بکھرا ہوا ملبہ دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ دوسری ویڈیو میں ایک شعلہ آسمان میں بلند ہوتا ہے اور بعد ازاں کھلے میدان میں آگ لگتی دکھائی دیتی ہے۔
کراچی میں خواجہ سراؤں کا بھارت کیخلاف احتجاج، مودی مردہ باد کے نعرے
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: کی تصدیق
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔