پاکستان نے چینی ساختہ طیاروں سے دو انڈین فوجی جہاز مار گرائے، دو امریکی عہدیداروں کی تصدیق
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
اسلام آباد / واشنگٹن (نیوز ڈیسک)دو امریکی عہدیداروں نے تصدیق کردی ہے کہ پاکستان نے چینی ساختہ طیاروں سے 2انڈین فوجی جہاز مار گرائے ۔ برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق کارروائی میں امریکی ساختہ لڑاکا طیارے ایف سولہ استعمال نہیں ہوئے ، واقعہ بیجنگ کے لڑاکا طیاروں کےلیے بڑاسنگ میل ہے اور اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ چین کا دفاعی نظام مغربی معیار کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوچکا ۔ ادھر سابق امریکی دفاعی اہلکار کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ محض دو ممالک کا تنازع نہیں بلکہ مستقبل کی جنگوں میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کا عملی تجربہ ہے۔تفصیلات کے مطابق بدھ کو پاکستان نے بھارت کے جودو طیارے مارگرائےاگرچہ بھارت ان کی تصدیق سے گریزاں ہے مگردو امریکی اہلکاروں نے برطانوی خبررساں ادارے کو بتایا ہے کہ گرنے والے طیاروں میں سے کم از کم ایک فرانسیسی ساختہ رفال طیارہ ہے اورجس طیارے سے نشانہ بنایا گیا ہے وہ چینی ساختہ جے 10لڑاکا طیار ہ ہے، پاکستان نےF-16 طیارے استعمال نہیں کیے۔ یہ واقعہ بیجنگ کے جدید لڑاکا طیارے کی کارکردگی کے لیے ایک بڑا سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ایک امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ “پاکستان نے چینی ساختہ J-10لڑاکا طیارے کے ذریعے فضائی لڑائی میں بھارتی طیاروں پر فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل داغے، جس کے نتیجے میں کم از کم دو طیارے مار گرائے گئے۔” دوسرے اہلکار نے تصدیق کی کہ ان میں سے ایک طیارہ فرانسیسی ساختہ رافیل (Rafale) تھا۔
Post Views: 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پاکستان نے چینی ساختہ
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔