Juraat:
2026-06-03@01:20:29 GMT

بھارت کوبھرپور جواب دیاجائیگا

اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT

بھارت کوبھرپور جواب دیاجائیگا

ریاض احمدچودھری

بھارتی حملوں اور پاکستان کی جانب سے اس کے موثر جواب کے بارے میں وزیراعظم کی ہدایت پر دفتر خارجہ اور وزارت اطلاعات متحرک نظر آرہی ہے۔ پاکستان حکام سے دنیا کی سپرپاورز سمیت دوست ممالک، اقوام متحدہ اور عالمی برادری کے مختلف فورمز نے سفارتی رابطے کیے ہیں۔ان سفارتی رابطوں میں پاکستان حکام نے واضح موقف اختیار کیا کہ پاکستان میں جہادی تنظیموں کا کوئی کیمپ موجود نہیں ہے، بھارتی الزامات غلط ہیں، پاکستان ہر طریقے کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے، پاکستان اپنے دفاع کے لیے تمام آپشنز استعمال کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے، حملہ میں پہل بھارت نے کی ہے جو مودی کا جنگی جنون ظاہر کرتا ہے۔پاکستان نے ہمیشہ مسائل کے حل کے لیے ڈائیلاگ کا آپشن اختیار کرتا ہے مگر پاکستان کی امن پسند کی پالیسی اس کی کمزوری نہیں ہے۔
عالمی برادری کی جانب سے مودی حکومت پر سفارتی دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ جنگی جنون سے باز رہے اورامن کا راستہ اختیار کرے، جنگی اور سفارتی محاذوں پر ناکامی کے بعد بھارت کے پاس اپنی مزید ناکامی سے بچنے کے واحد راستہ ڈائیلاگ بچتا ہے جس کو جلد وہ اختیار کرنے پر جلد از خود مجبور ہوگا۔پاک فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ بھارت کا مکروہ اور گھناؤنا چہرہ سب کے سامنے عیاں ہوگیا ہے۔کم ظرف دشمن نے بچوں، خواتین اور بزرگوں کو نشانہ بنایا،کیایہ بچے وہ دہشت گرد ہیں جنہیں بھارت نے نشانہ بنایا،دنیا میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھارت کا ملوث ہونا ثابت ہوچکاہے۔ بھارتی حملے میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق 31 شہید اور 57 زخمی ہو چکے ہیں۔
بھارتی بزدلانہ حملے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ دشمن اتنا کمزور ہے کہ فوج سے لڑنے کے بجائے معصوم شہریوں کو نشانہ بنایاہے۔ آپ بھارت سے ایسی توقع کر سکتے ہیں کہ کس طرح بھارت اپنی پراکسیز کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کروا رہا ہے، جب ہم نے دہشت گردوں کے لیے زمین تنگ کرنا شروع کی تو بھارت اپنی فوج کے ذریعے دہشت گردی پر اتر آیا۔ جب یہ حملہ ہوا تو پاکستان کی افواج نے اپنے دفاع میں صرف ملٹری ٹارگٹس کو چنا، ہم نے بزدل دشمن کی طرح شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا، 3 رافیل طیاروں سمیت 5 بھارتی طیارے تباہ کیے گئے۔ جبکہ بھارت نے نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کو بھی گولہ باری سے نقصان پہنچایا، یہ اقدام جنیوا کنونشن کے آرٹیکل 54 اور 56 کی صریحاً خلاف ورزی تھی۔دنیا کے سامنے شواہد سے ثابت ہوا کہ بھارت دیگر ممالک میں دہشت گردی میں ملوث ہے۔ایل او سی پر بھارت کی جارحیت اور سیز فائر کی خلاف ورزی کا بھرپور جواب دیا جا رہا ہے۔ افواجِ پاکستان نے بھارت کے 7 چھوٹے بڑے ڈرونز کو بھی تباہ کیا۔ 2 اپنے قبضے میں لیے۔ ان تمام حملوں میں پاک افواج کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ میڈیا کو لائن آف کنٹرول کا دورہ کرایا، جب فضائی اٹیک ہوا اس وقت 57 فلائٹس فضا میں تھیں، یہ مسافر طیارے مختلف ممالک کے تھے جنہیں بھارت نے خطرے میں ڈالا۔ دنیا میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھارت کا ملوث ہونا ثابت ہوچکاہے۔
پاکستان ایئرفورس نے جدید بھارتی جنگی طیاروں کو دھول چٹائی،شاہینوں نے جو کیا فضائی جنگ میں اس کی مثال نہیں ملتی،بھارتی فضائیہ کے 3رافیل سمیت 5طیارے تباہ کئے۔ ہم اپنے اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ ہماری امن کی شدید خواہش کو کبھی بھی کمزوری نہ سمجھا جائے، کیونکہ اپنے عوام کے تحفظ پر، اپنی زمین کے تحفظ پر افواج پاکستان کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔بھارت پاکستان پر حملے کی وجوہات پر طاقتور ممالک اور عالمی برادری کو قائل کرنے میں ناکام ہوگیا، یہ پاکستان کی موثر سفارت کاری کے سبب ممکن ہوا ہے، دفتر خارجہ بھارت کا اصل اور مکروہ چہرہ عالمی برادری کے سامنے لانے کے لیے متحرک ہوگیا۔ پاکستان نے پہلگام واقعہ اور بھارتی حملے کے اصل حقائق سے امریکا سمیت تمام دوست ممالک اور عالمی برداری کو اوپن اور بیک ڈور سفارتی رابطوں کے ذریعے آگاہ کردیا۔امریکا سمیت تمام دوست ممالک پاکستان کے موقف کو واضح انداز میں تسلیم کر رہے ہیں۔ عالمی برادری کی جانب سے مودی حکومت پر سفارتی دباؤ بڑھنا شروع ہوگیا ہے کہ وہ مزید جنگی ماحول پیدا نہ کرے، مسائل کے حل کے لیے بات چیت کا راستہ اختیار کرے۔اس سفارتی ناکامی نے مودی حکومت کے ہوش اڑادیے ہیں، بھارتی حکومت اس جنگی اور سفارتی محاذوں پر ناکامی کے بعد پریشانی میں مبتلا ہوتی جارہی ہے اور عالمی سطح پر تنہائی کا شکار نظر آرہی ہے۔
مودی حکومت پہلگام واقعہ پر پاکستان پر الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہی جس کے بعد پاکستان نے تحقیقات میں تعاون کرنے کی پیشکش دی جس کو مودی حکومت نے قبول نہیں کیا اس کی اہم وجہ یہ تھی کہ بھارت کے پاس پہلگام واقعہ کے کوئی ثبوت موجود ہی نہیں تھے اس لیے مودی سرکار نے اس معاملے پر راہ فرار اختیار کرنے کی کوشش کی۔اس سفارتی ناکامی کے بعد بھارت نے رات کے اندھیرے میں پاکستان کے مختلف شہروں کو نشانہ بنایا اور جواز دیا کہ ہم نے مبینہ طور پر جہادی تنظیموں کے کیمپوں پر حملہ کیا ہے لیکن اس الزام کا بھی کوئی ثبوت مودی حکومت کی جانب سے پیش نہیں کیا گیا اور یہ بھارتی دعوی بھی جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوا۔پاکستان اس حملے کے بعد سفارتی سطح پر اصل وجوہات سامنے لایا کہ بھارت نے جو حملہ کیا ہے وہ پاکستان کی رہائشی آبادیوں اور مساجد پر کیا گیا، ان حملوں میں بے گناہ افراد اور بچے شہید اور زخمی ہوئے، پاکستان نے ان بھارتی حملوں کا موثر ترین جواب دے کر مودی سرکار کی دفاع صلاحیتوں میں ناکامی کا پول عالمی سطح پرکھول دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: عالمی برادری نشانہ بنایا پاکستان کی مودی حکومت پاکستان نے کی جانب سے اور عالمی بھارت نے کہ بھارت بھارت کا کو نشانہ کے بعد کے لیے

پڑھیں:

سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب

فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔

کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔

پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں،  وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔

کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟