آپریشن سندور کی ناکامی،’مودی کے لیے گھر میں چھپنا بھی مشکل ہوگا‘
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
بھارت کی جانب سے پاکستان کیخلاف شروع کیے جانے والا ’آپریشن سندور‘ جس بری طرح ناکام ہوا، اس نے مودی ہی نہیں رافیل طیارے بنانے والی فرانسیسی کمپنی کو بھی شرمندہ کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مودی کا بھارتی پنجاب پر حملہ کرکے الزام پاکستان پر لگانے کا منصوبہ بے نقاب
بھارت کی اس ہزیمت پر پاکستانی عوام کا خاصے پُرجوش ہیں، اس حوالے سے ایک شہری کا کہنا ہے بھارت نے آپریشن کا نام سندور رکھا، تو وہ سندور ہماری ہی فوج نے ان کے ماتھے پر لگا دیا۔
پاکستانی شہری کے مطابق رافیل طیارے بھارتی فضائیہ کا غرور تھا، مگر پاک فضائیہ نے بھارت کے بزدلانہ حملے کے جواب میں اس کے 5 طیارے مار گرائے۔
عام پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ بھارت کا یہ گمان کہ پاکستانی ڈرون حملوں سے ڈر جائیں گے، خام خیالی ہے، اس لیے کہ پاکستانی شاہینوں نے 25 ڈرون فضا ہی میں مار گرائے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پانڈو سیکٹر میں پاک فوج کی جوابی کارروائی، دشمن پسپا
شہریوں کے ماطبق شور مچانا ہندوستانی میڈیا کا پرانا وتیرہ ہے، یہ قوم نہ کبھی ڈری ہے نہ جھکی ہے۔
پاکستانیوں کا کہان ہے کہ پاک فوج نے دشمن کی مکمل بریگیڈ تباہ کر دی، مودی کے لئے گھر میں چھپنا بھی مشکل ہوگا۔
پُرجوش پاکستانی شہریوں کا کہنا ہے کہ تم بزدل قوم ہو جو صرف سکھوں پر ظلم کر سکتے ہو یا کینیڈا میں لوگوں کو مروا سکتے ہو۔
پاکستانی شہریوں کا کہنا ہے کہ عوام پُرعزم ہے اور ہر محاذ پر افواج پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آپریشن سندور پاک فوج پاکستانی عوام رافیل رافیل طیارے مودی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاک فوج پاکستانی عوام رافیل رافیل طیارے کا کہنا ہے
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔