خاتون فٹبالر نے طویل ترین فاصلے تک فٹبال پھیکنے کا نیا ریکارڈ قائم کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
آئرلینڈ کی خاتون فٹبالر میگن کیمبل نے حال ہی میں خواتین فٹبال میں طویل ترین فاصلے تک فٹبال کو ہاتھوں سے پھیکنے کا نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے۔
31 سالہ میگن نے فٹبال کو 37.55 میٹر (123 فٹ 2 انچ) کی دوری تک پھینک کر گنیز ورلڈ ریکارڈ اپنے نام کیا جو کہ پچھلے 35 میٹر کے ریکارڈ سے زیادہ ہے۔
میگن کیمبل کا تعلق کلب ’لندن سٹی لائنیسز‘ (London City Lionesses) سے ہے۔ یہ ریکارڈ خواتین فٹبال میں طویل ترین تھرو اِن کا ریکارڈ ہے جو کہ 37.
میگن کیمبل کا کہنا ہے کہ ان کی یہ صلاحیت قدرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ 12 یا 13 سال کی تھیں اور لڑکوں کی ٹیم میں کھیلتی تھیں، تب بھی ان کا تھرو ان لڑکوں سے زیادہ طویل ہوتا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے کبھی اس پر خاص تربیت نہیں لی، بلکہ ان کے بازوؤں کی غیر معمولی لچک (hypermobility) کی وجہ سے وہ فٹبال کو اتنی دور تک پھینکنے کے قابل ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔