اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک )پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ فضائی تصادم نے دنیا بھر کی توجہ حاصل کر لی ہے اور اسے جدید فضائی ہتھیاروں، پائلٹ کی مہارت اور لڑاکا طیاروں کی صلاحیتوں کو جانچنے کا ایک بہترین موقع قرار دیا جا رہا ہے۔

چینی ساختہ پاکستانی لڑاکا طیاروں اور فرانسیسی ساختہ ہندوستانی رافیل جیٹ طیاروں کے درمیان اس فضائی تصادم کا دنیا بھر کی فوجیں تجزیہ کریں گی تاکہ مستقبل کی جنگوں میں برتری حاصل کرنے کے لیے قیمتی معلومات حاصل کی جا سکیں۔

چھ اورسات مئی کی درمیانی شب پاکستانی اور بھارتی فضائیہ کے درمیان ہونے والی جھڑپ حالیہ تاریخ کی سب سے بڑی اور طویل ترین جنگ ہے۔

اس فضائی جھڑپ میں چینی ساختہ پاکستانی جے ٹین طیارے اور فرانسیسی ساختہ ہندوستانی رافیل لڑاکا طیارے آمنے سامنے آئے۔

سینئر پاکستانی سیکورٹی ذرائع نے امریکی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ دونوں طرف سے تقریباً 125 طیاروں نے لڑائی میں حصہ لیا جو ایک گھنٹے سے زائد جاری رہی اور دونوں ممالک کے جنگی طیاروں نے اپنی فضائی حدود نہیں چھوڑی۔

یہ خبر بھی پڑھیں ۔پاکستانی جوابی وار میں رافیل طیارے کو نقصان پہنچا، فرانسیسی حکام کی تصدیق

لڑائی کے دوران بعض اوقات 160 کلومیٹر کے فاصلے سے ایک دوسرے پر میزائل داغے گئے ،پاک فوج کے ترجمان کے مطابق پاکستان نے بھارتی حملوں کا زبردست جواب دیا اور 3 فرانسیسی ساختہ رافیل طیاروں سمیت 5 بھارتی طیارے مار گرائے۔

امریکی حکام کے مطابق چینی ساختہ پاکستانی فضائیہ کے لڑاکا طیارے نے کم از کم دو ہندوستانی فوجی طیارے مار گرائے۔برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق پاکستان اور بھارت کی فضائی افواج کے درمیان یہ تصادم دنیا بھر کی فوجوں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

یہ فضائی تصادم دوسرے ممالک کی فوجوں کے لیے اس جنگ میں پائلٹوں، لڑاکا طیاروں اور فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کی کارکردگی کا مطالعہ کرنے اور اس معلومات کو اپنی فضائی افواج کو جنگ کے لیے تیار کرنے کے لیے استعمال کرنے کا ایک بہترین موقع ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت اور پاکستان کی جانب سے جدید ہتھیاروں کے عملی استعمال کا دنیا بھر میں خاص طور پر چین، امریکہ اور دیگر یورپی ممالک میں تفصیل سے تجزیہ کیا جائے گا۔

انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز کے ایک سینئر رکن کا کہنا ہے کہ امریکہ اور کئی یورپی ممالک کی فضائی افواج پاک بھارت تنازعہ میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں، طریقوں اور حکمت عملیوں کے ہر پہلو کا گہرائی سے تجزیہ کرنے میں دلچسپی لیں گی۔
ایل او سی پر رات بھر بھارتی گولہ باری جاری،ماں بیٹی سمیت5 افرادشہید ،13زخمی

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: دنیا بھر کی کے درمیان کے لیے

پڑھیں:

خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان

الیکشن کمیشن نے 23 اضلاع میں حلقہ بندیاں مکمل کرلیں جبکہ مزید اضلاع میں حلقہ بندیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ الیکشن کمیشن جلد خیبر پختونخوا حکومت سے انتخابات کی حتمی تاریخ مانگے گا۔ اسلام ٹائمز۔ الیکشن کمیشن نے کے پی کے میں مرحلہ وار بلدیاتی انتخابات کروانے پر کام شروع کر دیا، صوبے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان ہے۔ الیکشن کمیشن نے 23 اضلاع میں حلقہ بندیاں مکمل کرلیں جبکہ مزید اضلاع میں حلقہ بندیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ الیکشن کمیشن جلد خیبر پختونخوا حکومت سے انتخابات کی حتمی تاریخ مانگے گا۔ ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن رواں ماہ کے آخر میں مرحلہ وار بلدیاتی انتخابات کرانے کا حتمی فیصلہ کرے گا، بلدیاتی اداروں کی مدت مارچ اور جون 2026 میں مکمل ہو چکی ہے۔

الیکشن کمیشن نے 23 اضلاع میں الیکشنز کروانے کے لیے تیار ہے، اناضلاع میں بلدیاتی الیکشنز کی تاریخ سے متعلق سمری تاحال خیبر پختونخوا کابینہ میں زیر التوا ہے۔ کے پی کابینہ کے کل کے اجلاس میں سمری سے متعقل فیصلہ متوقع ہے، چیف سیکرٹری کے پی کے 28 جولائی تک الیکشن کمیشن کو آگاہ کریں گے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان