اسرائیل کیساتھ بالواسطہ مذاکرات کیلئے تیار ہیں، شامی صدراحمد الشرع
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
دمشق (اوصاف نیوز)شامی صدر احمد الشرع کہنا تھا کہ ان کا ملک حالیہ کشیدگی میں بگاڑ روکنے کیلئے اسرائیل کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کر رہا ہے۔
یہ بات انہوں نے جنوری میں عہدہ سنبھالنے کے بعد یورپ کے اپنے پہلے دورے کے دوران پیرس میں کہی ہے۔ اپنے اس دورہ کے دوران وہ وہ مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات کو وسعت دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اسرائیل نے گزشتہ ہفتے شام کے کچھ حصوں پر فضائی حملوں کا سلسلہ شروع کیا تھا اور کہا تھا کہ ان حملوں کا مقصد ملک میں دروز اقلیت کا تحفظ کرنا ہے جن پر حکومت نواز جنگجو حملہ کر رہے ہیں۔
پیرس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے شامی صدر احمد الشرع نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے، صورتحال کو پرسکون کرنے کے لیے ثالثی کے ذریعے بالواسطہ بات چیت ہو رہی ہے۔ مقصد ہے کہ معاملہ قابو سے باہر نہ ہو۔ اس دوران انہوں نے ثالثوں کی شناخت نہیں بتائی۔
احمد الشرع کا یہ دورہ شام میں فرقہ وارانہ تشدد کے دوبارہ پیدا ہونے کے درمیان ہو رہا ہے۔ احمد الشرع نے 8 دسمبر 2024 کو بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد شام کا اقتدار سنبھالا تھا۔
یاد رہے یورپی یونین نے شام میں تیل، گیس اور بجلی کے شعبوں کے ساتھ ساتھ نقل و حمل، ہوا بازی اور بینکنگ کے شعبوں میں اپنی پابندیوں کو نرم کرنا یا ختم کرنا شروع کر دیا ہے۔
چینی بھی رافیل طیاروں کی تباہی کا مذاق اڑانے لگ گئے، گانا سوشل میڈیا پر وائرل
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: احمد الشرع کے ساتھ
پڑھیں:
کوٹ عبدالمالک: بیٹی‘ سابق بیوی پر تشدد‘ تیزاب پھینک دیا‘ دونوں جھلس گئیں
فیروزوالہ (نامہ نگار) شرقپور خورد کوٹ عبدالمالک میں ایک شخص وقاص احمد نے بیوٹی پارلر پر جا کر سابقہ بیوی مسرت بی بی اور جواں سال بیٹی ایمان فاطمہ کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد تیزاب پھینک دیا جس سے مسرت بی بی جسم پر تیزاب پڑنے سے بری طرح جھلس گئی جبکہ ایمان فاطمہ معمولی زخمی ہوئی۔ دریں اثناء ایس ایچ او کوٹ عبدالمالک نے بتایا ہے کہ ملزم وقاص احمد نشہ کا عادی ہے۔ وقوعہ کے وقت وقاص احمد اپنی بیٹی ایمان فاطمہ کو ملنے کی خاطر سابقہ بیوی مسرت بی بی کے بیوٹی پارلر پر آیا جہاں مسرت بی بی نے بیٹی کو ملانے سے انکار کر دیا۔ ملزم شیخوپورہ کے قریب قصبہ بھکھی میں رہ رہا ہے جس کو گرفتار کرنے کی خاطر اس کے تمام ممکنہ ٹھکانوں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔