— فائل فوٹو

بھارت کی جانب سے کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ ہیک کرلیا گیا تھا۔

کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) کے ترجمان نے بتایا کہ کراچی پورٹ کی آئی ٹی ٹیم نے آفیشل اکاؤنٹ فوری ریکور کرلیا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ کراچی پورٹ سے متعلق مضحکہ خیز خبر جاری کرنا بھارت کی بچکانہ حرکت ہے۔

اُنہوں نے یہ بھی بتایا کہ کراچی پورٹ پر جہازوں کی آمدورفت معمول کے مطابق جاری ہے، بھارت کی جانب سے جو خبر دی گئی وہ جھوٹی ہے۔

کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں بھی عوام اور میڈیا کو اس حوالے سے آگاہ کیا گیا ہے۔

پوسٹ میں لکھا ہے کہ یہ اکاؤنٹ ہیک ہوگیا تھا، کراچی پورٹ بالکل محفوظ ہے۔

فوٹو بشکریہ ایکس

ایک اور پوسٹ میں لکھا ہے کہ بھارت نے کے پی ٹی کا آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ ہیک کرلیا تھا اور ہیک کرنے کے بعد آفیشل اکاؤنٹ سے پورٹ کے بارے میں جھوٹی خبر دی۔

پوسٹ میں پاکستانی میڈیا سے اپیل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ براہ مہربانی، کوئی بھی خبر نشر کرنے سے پہلے پورٹ کی پبلک ریلیشن ٹیم سے اس کی تصدیق کروائیں۔ 

واضح رہے کہ نیشنل سائبر ایمرجنسی ریسپانس ٹیم نے پاک بھارت کشیدگی کے درمیان سائبر حملوں کے پیشِ نظر ایڈوائزری پہلے ہی جاری کر رکھی ہے۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: کراچی پورٹ پوسٹ میں کے پی ٹی

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • میکسیکو کی معروف بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران دم توڑ گئیں
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا