آپریشن بنیان مرصوص، اس سے مراد کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT
پاک فوج نے بھارت کی بڑھتی ہوئی جارحیت کے جواب میں شروع کیے گئے آپریشن کو (بنیان مرصوص) کا نام دیا ہے، یہ نام نہ صرف ایک عسکری حکمت عملی کی نمائندگی کرتا ہے بلکہ قرآن کریم سے ماخوذ ایک روحانی و نظریاتی پیغام بھی اپنے اندر سموئے ہوے ہے۔
(بنیان مرصوص) عربی زبان کا اصطلاحی مرکب ہے، جو سورۃ الصف کی آیت نمبر ٤ سے لیا گیا ہے، جس میں فرمایا گیا: (إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُم بُنيَانٌ مَّرْصُوصٌ)۔ ترجمہ: بے شک اللہ اُن لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اُس کی راہ میں صف بستہ ہو کر اس طرح لڑتے ہیں جیسے وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہوں۔
اس نام کا انتخاب پاک فوج کے اس پیغام کو واضح کرتا ہے کہ پاکستانی قوم اور اس کی مسلح افواج دشمن کے خلاف اتحاد، نظم، قربانی اور ایمانی جذبے کے ساتھ سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن چکی ہیں۔
مزید پڑھیں: آپریشن بنیان مرصوص: پاکستان کی بھرپور جوابی کارروائی، بھارت کے اہم فوجی اہداف تباہ
(بنیان) کا مطلب ہے بنیاد یا عمارت، جبکہ (مرصوص) کا مطلب ہے مضبوطی سے جُڑی ہوئی، یعنی ایسی صف یا جماعت جو اندرونی طور پر یکجان ہو اور بیرونی حملے کے سامنے ناقابلِ تسخیر ہو۔
فوجی حکمت عملی کے تحت یہ نام اس مؤثر، مربوط اور متحرک ردِعمل کی نمائندگی کرتا ہے جو دشمن کے ہر حملے کو ناکام بنانے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔ یہ نہ صرف عسکری ردعمل ہے بلکہ ایک نظریاتی، ایمانی اور قومی وحدت کا مظہر بھی ہے۔
پاک فوج نے واضح کیا ہے کہ آپریشن (بنیان مرصوص) صرف دشمن کو جواب دینے کا نام نہیں بلکہ یہ اس پیغام کا اظہار ہے کہ پاکستانی قوم ہر جارحیت کے سامنے ایک جسم، ایک صف اور ایک نظریہ بن کر کھڑی ہے سیسہ پلائی دیوار کی طرح۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنیان مرصوص کرتا ہے
پڑھیں:
اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
اٹلی(نیوز ڈیسک)اطالوی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اٹلی میں پولیس نے دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے جو ایک جلی ہوئی منی وین میں مردہ پائے گئے تھے۔
گاڑی جنوبی کلابریا کے علاقے میں ایک وسیع کھیتی کے علاقے میں ایک گاؤں کے قریب ایک پٹرول اسٹیشن سے ملی۔
سی سی ٹی وی امیجز میں دیکھا گیا کہ دو افراد وین کے دروازے باہر سے روک رہے ہیں اور آگ لگانے کے لیے اندر مائع پھینک رہے ہیں۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس علاقے میں حالیہ مہینوں میں پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو نذر آتش کرنے کے 14 واقعات ہوئے ہیں، جہاں فارم کے کام اور رہائش کی تقسیم پر تارکین وطن کے درمیان تناؤ پایا جاتا ہے۔
فائر فائٹرز کو منگل کو مقامی وقت کے مطابق تقریباً 13:00 بجے (11:00 GMT) جلتی ہوئی وین کے مقام پر بلایا گیا۔
شعلوں کو بجھانے کے بعد انہوں نے اندر سے چار جلی ہوئی لاشوں کی بھیانک دریافت کی۔
دونوں مشتبہ افراد کو بعد میں سی سی ٹی وی فوٹیج کے شواہد کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا۔
اطالوی میڈیا کا کہنا ہے کہ افغانستان سے تعلق رکھنے والا پانچواں شخص حملے میں بچ گیا ہے۔ ان کے حوالے سے بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والوں میں تین افغان اور ایک پاکستانی شامل ہے، جو تمام زراعت کا کام کرتے تھے۔
زندہ بچ جانے والے شخص نے اطالوی میڈیا کو بتایا کہ وہ ایک کھڑکی توڑ کر جلتی ہوئی کار سے بچ نکلا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ دونوں گرفتار افراد کی جانب سے گاڑی میں سوار افراد سے ٹرانسپورٹیشن کی رقم کا مطالبہ کرنے کے بعد تنازعہ پیدا ہوا تھا، جسے انہوں نے دینے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ مزدوروں کو علاقے کے اسٹرابیری کے کھیتوں میں ان کے کام کی ادائیگی نہیں کی گئی، حالانکہ انہیں کھانا اور رہائش فراہم کی گئی تھی۔
ان ہلاکتوں نے اٹلی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کلابریا کے علاقائی صدر، روبرٹو اوچیوٹو نے کہا کہ حملے کی خبر “انسانیت پر یقین کو متزلزل کرتی ہے”، اور مزید کہا کہ یہ “غیر انسانی” ہے۔
اس دوران CGIL یونین کے حوالے سے اٹلی کی انسا نیوز ایجنسی نے “ہمارے دیہی علاقوں میں مزدوروں، اکثر تارکین وطن کی طرف سے برداشت کی جانے والی روزمرہ کی زندگی کی گھناؤنی حرکتوں کا مقابلہ کرنے” کے لیے کارروائی کا مطالبہ کیا۔