بھارت نے 24 ہوئی اڈے بند کردیے، فلائٹ آپریشنز معطل
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
نیویارک (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 09 مئی2025ء)پاکستان کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران بھارت کے شمالی اور مغربی علاقوں کے 2 درجن ہوائی اڈوں پر پروازیں معطل کر دی گئی ہیں۔امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ رات ایک بیان میں بھارت کی وزارت ہوابازی نے 24 ہوائی اڈوں کی عارضی بندش کی تصدیق کی۔
(جاری ہے)
رپورٹ کے مطابق بھارت کی اہم مقامی ایئر لائنز نے مسافروں کو دی گئی ہدایات میں کہا کہ ان کی پروازیں ہفتے تک معطل رہیں گی، جن میں پاکستان کی سرحد سے متصل شمالی پنجاب کے شہر امرتسر اور مقبوضہ کشمیر کا سری نگر ایئرپورٹ بھی شامل ہیں۔
بھارت کی سب سے بڑی مقامی ایئر لائن انڈگو نے بدھ کو 165 پروازیں منسوخ کر دیں، جبکہ ایئر انڈیا اور ایئر انڈیا ایکسپریس نے بھی اتنی ہی پروازیں منسوخ کی ہیں۔ایئر انڈیا نے لاہور سے قریبی امرتسر ایئرپورٹ کی بندش کے باعث امرتسر سے نئی دہلی جانے والی دو بین الاقوامی پروازوں کا راستہ بدل دیا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :