پاکستان کی جوابی کارروائی کے خدشے پر دہلی ایئرپورٹ پر 90 پروازیں منسوخ
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
نئی دہلی: بھارت کے دارالحکومت دہلی کے ایئرپورٹ پر 90 پروازیں منسوخ کر دی گئیں، جن میں پانچ بین الاقوامی پروازیں بھی شامل ہیں۔
بھارتی سرکاری خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا (PTI) نے تصدیق کی کہ یہ فیصلہ ملک بھر میں متعدد ایئرپورٹس کی بندش کے باعث کیا گیا۔
یہ اقدام پاکستان کی ممکنہ جوابی کارروائی کے پیش نظر کیا گیا ہے، جس کے بعد بھارت نے ملک کے 27 اہم ایئرپورٹس کو بند کرنے کا فیصلہ کیا۔ بھارت کی شہری ہوابازی کی وزارت نے جاری کردہ نوٹم میں واضح کیا کہ یہ بندش 10 مئی کی صبح 5:29 بجے تک برقرار رہے گی۔
اخبار ’دی ہندو‘ کے مطابق بند کیے گئے ہوائی اڈوں میں سری نگر، لیہہ، امرتسر، چندی گڑھ، شملہ، دھرم شالہ، جودھ پور، بیکانیر، جیسلمیر، پٹیالہ، بھوج اور راجستھان کے دیگر ایئرپورٹس شامل ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان میں سے کئی ہوائی اڈے انڈین ایئر فورس اور کمرشل ایئرلائنز کے لیے مشترکہ استعمال کے تھے۔
سیکیورٹی خدشات کے باعث بھارت کی جانب سے یہ غیر معمولی اقدام سامنے آیا ہے، جس کے بعد سفری منصوبے متاثر ہوئے ہیں اور عوام میں بے چینی دیکھی جا رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔