’’آپریشن بنیان مرصوص‘‘وزیر اعلی پنجاب کا پاک فوج کے لیے اعزاز و افتخار کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 10 مئی2025ء) وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پاک فوج کی بھارتی جارحیت کے خلاف عبرت ناک جوابی کارروائی پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کا بھارت کی بزدلانہ جارحیت کا دن کی روشنی میں دیا گیا جواب تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا،پاک سرزمین کے سپاہیوتم پر سلام ہو، تمہارے جذبے کو سلام ہو اور تمہاری غیرت کو سلام ہو۔
(جاری ہے)
سلام ہے ان محافظوں کو جنہوں نے صرف گولی سے نہیں بلکہ غیرت، حکمت اور شجاعت سے جواب دیا۔انہوں نے کہا کہ آپریشن بنیان مرصوص جوابی کارروائی نہیں، تاریخی اعلان ہے کہ ہم کمزور نہیں، امن کے لیے خاموش تھے۔جب دشمن نے حد پار کی تو پاکستان نے صبر کو حکمت میں بدلااور کڑی ضرب دی، پاکستان کاایک ایک سپاہی مادرِ وطن کے تحفظ کی قسم کھا کر زندہ ہے۔انہوںنے کہا کہ امن کے خواہاں ضرور ہیں مگر جارحیت کا جواب خاموشی نہیں ضرب ہوتا ہے،پاکستان کی سرحدیں صرف خاردار تاروں سے ہی نہیں شہیدوں کے لہو سے محفوظ ہیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔