سائبر حملوں کا خدشہ: قومی سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے اہم ایڈوائزری جاری کردی
اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT
ویب ڈیسک: پاکستان میں سوشل میڈیا صارفین کیلئے قومی سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم کی جانب سے اہم ایڈوائزری جاری کردی گئی.
ایڈوائزری میں حساس معلومات شیئر کرنے سے باز رہنے اور تصدیق شدہ ذرائع پر انحصار کی ہدایت کی گئی ہے۔صارفین فوجی نقل و حرکت، آپریشنز یا کسی واقعے سے متعلق تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنے سے گریز کریں، کسی بھی اطلاع کو شیئر کرنے سے قبل معتبر ذرائع اور شواہد کی تصدیق ضرور کریں۔
مری میں ’’پاک فوج زندہ باد ‘‘ ریلی
نیشنل سرٹ کا کہنا ہے کہ غلط افواہیں، فیک نیوز اور ڈس انفارمیشن قومی سلامتی کو نقصان پہنچا سکتی ہیں، حساس معلومات کا شیئر کیا جانا دشمن عناصر کیلئے سہولت پیدا کرتا ہے اور آپریشنل سیکیورٹی میں خلل کا باعث بن سکتا ہے۔
ایڈوائزری میں عوام کو جذباتی اور سنسنی خیز مواد سے بھی خبردار رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ بھارت کی جانب سے 6 اور 7 مئی کے حملے کے بعد ایک بار پھر 9 اور 10 مئی کی درمیانی شب پاکستان پر حملہ کیا گیا، جس میں میزائلوں سے تین ایئر بیسز کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی،پاک فوج نے بھارتی جارحیت کا جواب دینے کیلئے"آپریشن بنیان مرصوص" کا آغاز کیا اور بھارت کے متعدد شہروں میں 26 سے زائد مقامات کو بھرپور قوت سے نشانہ بنایا۔
سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر اسلام آباد پہنچ گئے
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ