بھارتی پائلٹس میں مہارت ہے نہ ڈرونز کوئی نقصان کرسکے، عطا تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT
وزیر اطلاعات عطاء اللّٰہ تارڑ : فوٹو فائل
وزیر اطلاعات عطاء اللّٰہ تارڑ کا کہنا ہے کہ افواج پاکستان نے ان کے ہر طرف سے پرخچے اڑا دیے ہیں، بھارت کے پائلٹس میں مہارت ہے نہ ان کے ڈرونز کوئی نقصان کر سکے۔
جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراطلاعات عطاء اللّٰہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان کا بھارتی حملوں میں نہ ہونے کے برابر نقصان ہوا، گزشتہ رات کا بھارت کا حملہ بزدلانہ تھا، پہلے ہم نے 5 رافیل گرائے اور پھر ان کے ڈرون گرا دیے، بھارت کی متعدد پوسٹیں، ایئر فیلڈز تباہ ہو چکی ہیں۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہم نے پہل نہیں کی، لیکن اس بار جارحیت پر بھارت میں گھس کر مارا، ان کے اترے چہرے، بیٹھی آوازیں اور ان کا مورال بتا رہا ہے کہ ان کا کتنا نقصان ہوا، ہم نے کہا تھا ہم تیار ہیں آزمانا نہیں۔
ایئر وائس مارشل اورنگزیب احمد نے بتایا کہ 6 اور 7 مئی کی درمیانی رات بھارتی حملوں کے خلاف پاک فضائیہ دو منٹ کے اندر سرگرم ہوگئی، بھارت سے ایک گھنٹے سے زائد ٹکراؤ کی صورتحال رہی۔
عطاء اللّٰہ تارڑ نے کہا کہ ہم نے سفارتی طور پر بہت سے ممالک کے ساتھ انگیج کیا، دیکھتے ہیں کہ آنے والے حالات کیسے ہوتے ہیں، ہمارے حملے کے بعد بھارت نے بہت بھاری نقصان اٹھایا ہے، بھارتی میڈیا بہت اچھل رہا تھا آج ان کی آوازیں بیٹھی ہیں۔
خیال رہے کہ پاکستان کی مسلح افواج نے بھارت کے مسلسل جارحانہ اقدامات کا منہ توڑ جواب آپریشن بنیان مرصوص سے دے دیا ہے، آپریشن کے دوران بھارت میں 10 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ آدم پور، ادھم پور، بٹھنڈا، سورت گڑھ، مامون، اکھنور، جموں، سرسہ اور برنالہ کی ایئر بیسز اور فیلڈز کو تباہ کردیا گیا جبکہ بھارتی اڑی فیلڈ سپلائی ڈپو، سرسہ اور ہلوارا ایئر فیلڈ بھی تباہ کر دی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: عطاء الل نے کہا ہ تارڑ
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔