فضائی اپریشن کھلتے ہی کراچی سے پہلی پرواز دوحہ روانہ ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT
فوٹو فائل
پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق کے بعد پاکستانی فضائی حدود ہر قسم کی پروازوں کےلیے مکمل طور پر بحال کردی گئیں، فضائی آپریشن کھلتے ہی کراچی سے پہلی پرواز دوحہ روانہ ہوگئی۔
قطر ایئر ویز کی پرواز کیو آر 604 رات گئے دوحہ سے کراچی پہنچی تھی،
پرواز کے کراچی لینڈ کرتے ہی پاکستان بھر میں فضائی آپریشن بند کر دیا گیا تھا۔
ایئرپورٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ فضائی آپریشن بحال ہوتے ہی پرواز کیو آر 605 دوحہ کیلئے روانہ ہوگئی۔
امریکی صحافی کا کہنا ہے کہ کئی دنوں سے پوری دنیا بھارت، پاکستان کے درمیان سیز فائر کی کوشش کر رہی تھی، بھارت نے پاکستان کی ایئر بیسز پر حملہ کیا۔
خیال رہے کہ پاکستانی فضائی حدود ہر قسم کی پروازوں کے لیے مکمل طور پر بحال کردی گئیں۔
ترجمان پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) کے اعلامیے کے مطابق ملک کے تمام ایئرپورٹس معمول کے فلائٹ آپریشن کےلیے دستیاب ہیں۔
پی اے اے کے مطابق پاکستان کی فضائی حدود ہر قسم کی پروازوں کےلیے مکمل طور پر بحال کردی گئی ہیں۔
ترجمان پی اے اے کے مطابق مسافروں سے گزارش ہے کہ وہ اپنی پروازوں کے تازہ ترین شیڈول کیلئے متعلقہ ایئرلائنز سے رابطہ کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پروازوں کے کی پرواز
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔