پاکستان سمیت دنیا بھرمیں آج ماؤں کا عالمی دن منایا جارہا ہے
اشاعت کی تاریخ: 11th, May 2025 GMT
پاکستان سمیت دنیا بھرمیں آج ماؤں کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ماں، شفقت، خلوص، صبر اور قربانی سے بھری ایک ہستی ہے، ماں کی عظمت کو سلام پیش کرنے کیلئے پاکستان سمیت دنیا بھرمیں ماؤں کا عالمی دن منایا جارہا ہے، ماں قدرت کا وہ تحفہ جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ماں وہ عظیم ہستی جسے خراج تحسین پیش کرنے کیلئے الفاظ کم پڑجائیں، اس دن کو منانے کا مقصد ماں کے مقدس رشتے کی عظمت و اہمیت کا اجاگرکرنا، ماں کیلئےعقیدت، شکر گزاری اور محبت کے جذبات کو فروغ دینا ہے۔1911ء میں امریکا کی ایک ریاست میں پہلی بار ماؤں کا عالمی دن منایا گیا، ہر سال ماؤں کاعالمی دن منانے کیلئے مختلف ممالک میں ایک ہی دن مختص نہیں ہے، پاکستان اور اٹلی سمیت مختلف ممالک میں یہ دن مئی کے دوسرے اتوار منایا جاتا ہے۔یوں تو ہر دن ماں کا دن ہے لیکن خاص طور پر اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد ماؤں کی عظمت کو خراج تحسین پیش کرنا ہے، ہر ماں قابل تحسین ہے لیکن کچھ مائیں ایسی بھی ہیں جو مشکلات کو چیلنج سمجھ کے قبول کرتی ہیں اور اپنے بچوں کی بہترین تعلیم و تربیت کی خاطر گھروں کی ذمہ داری ہی نہیں سنبھالتیں بلکہ بچوں کے باپ کے شانہ بشانہ محنت کرتی ہیں۔تمام مخالفتوں اور چیلنجز کے باوجود ایک ماں اپنے بچوں کو بہترین زندگی دینے کیلئے مشکلات اٹھانے کیلئے ہر دم تیار رہتی ہے، ماں کا دل تو بچوں کیلئے دھڑکتا ہے، بچوں کے ساتھ رہنا اولین ترجیح ہے لیکن ان کے بہتر مستقبل کیلئے پیشہ ورانہ ذمہ داریاں بھی احسن طریقے سے نبھا رہی ہیں۔دنیا کا ہر رشتہ انسان کا ساتھ چھوڑ دے تب بھی ماں آخری دم تک اپنی اولاد کی فکر نہیں چھوڑتی، یہ ایک واحد انسانی رشتہ ہے جو بالکل بے غرض ہے لیکن وقت کی ستم ظریفی ہے کہ پاکستان میں اولڈ ہومز بنے اور اب بھرتے ہی جا رہے ہیں، اپنے بچوں کو پالنے کیلئے ہر دکھ سہنے والی مائیں اولڈ ہومز میں کرب سے گزر رہی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ماؤں کا عالمی دن منایا ہے لیکن
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی