کشمیر ایک سیاسی اور انسانی مسئلہ ہے جس کو بات چیت کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے، کل جماعتی حریت کانفرنس
اشاعت کی تاریخ: 11th, May 2025 GMT
بیان میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں موجودہ صورتحال تشویشناک ہے، علاقے کے ہر شہر، قصبے اور گائوں کو فوجی کیمپ میں تبدیل کر دیا گیا ہے جہاں بھارتی فورسز کے اہلکار نہتے عوام بالخصوص نوجوانوں کے خلاف ناقابل بیان جرائم کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ کشمیر ایک سیاسی اور انسانی مسئلہ ہے جس کا کوئی فوجی حل نہیں اور یہ تنازعہ صرف بامعنی بات چیت کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کا خیرمقدم کیا ہے۔ انہوں نے شہری ہلاکتوں اور املاک کی تباہی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کشمیریوں کی آواز دبانے پر تلا ہوا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں موجودہ صورتحال تشویشناک ہے، علاقے کے ہر شہر، قصبے اور گائوں کو فوجی کیمپ میں تبدیل کر دیا گیا ہے جہاں بھارتی فورسز کے اہلکار نہتے عوام بالخصوص نوجوانوں کے خلاف ناقابل بیان جرائم کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ حریت ترجمان نے بھارت پر زور دیا کہ وہ تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق بامعنی مذاکرات کے ذریعے حل کرے۔
انہوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی سنگین صورتحال کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی حکومت نے پرتشدد فوجی کارروائیوں، قتل و غارت، گرفتاریوں، املاک کی ضبطگی، گھروں کی مسماری، سرکاری ملازمین کی برطرفی اور دیگر گھنائونے جرائم کے ذریعے کشمیریوں پر ظلم و بربریت کی کارروائیاں تیز کر دیں۔ حریت ترجمان نے کہا کہ بھارت مظالم ڈھا کر کشمیری عوام کو اپنی جدوجہد سے دستبردار ہونے پر مجبور نہیں کر سکتا اور وہ اپنی منصفانہ جدوجہد کو اس کے منطقی انجام تک جاری رکھیں گے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا کہ کشمیر خالصتا ایک سیاسی اور انسانی مسئلہ ہے جس کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور اسے بامعنی بات چیت کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی تسلط سے آزادی کے لیے لاکھوں کشمیریوں نے قربانیاں دی ہیں اور انہوں نے اپنے نصب العین کے حصول تک شہداء کے مقدس مشن کو جاری رکھنے کا عزم کر رکھا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ بی جے پی حکومت کشمیریوں کو اپنے مادر وطن پر بھارت کے ناجائز قبضے کو چیلنج کرنے پر سیاسی انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری مداخلت کرے اور کشمیریوں کے خلاف ظلم و بربریت بند کرانے اور تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل کرانے کے لیے بھارت پر دبائو ڈالے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا کہ انہوں نے کے ذریعے گیا ہے
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔