مسئلہ کشمیر کے تناظر میں ’روس‘ کا شملہ اور لاہور معاہدوں کا ذکر کتنی اہمیت کا حامل ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
روسی سفیر البرٹ پی خوروف نے گزشتہ روز روسی سفارتخانے میں میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر شملہ معاہدہ اور معاہدہ لاہور کے تحت حل ہونا چاہیے۔
شملہ معاہدہ دونوں ملکوں کے درمیان باہمی تنازعات کو دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی بات کرتا ہے، یعنی اقوامِ متحدہ یا کسی تیسرے ملک کی ثالثی کو خارج از امکان قرار دیتا ہے۔ جبکہ معاہدہ لاہور کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب معاملات پر جامع بات چیت پر زور دیتا ہے۔
اگرچہ یہ پریس کانفرنس روس اور یوکرین کے تنازع پر پاکستانی میڈیا کو بریفنگ کے لیے منعقد کی گئی تھی اور ایسی بریفنگز کچھ عرصے سے جاری ہیں، لیکن ایک سوال کے جواب میں روسی سفیر نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے شملہ اور لاہور معاہدوں کا حوالہ دیا۔
مزید پڑھیں:یوکرین تنازع میں عدم مداخلت کے مؤقف پر پاکستان کے شکر گزار ہیں، روسی سفیر
مسئلہ کشمیر پر روس کا تاریخی مؤقف کیا ہے؟پہلگام واقعے کے بعد روس نے ایک بار پھر ثالثی کی پیشکش کی۔ 4 اور 5 مئی کو روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے پاک بھارت وزرائے خارجہ سے الگ الگ بات کی اور دہشتگردی کے سیاسی حل کے لیے مدد کی پیشکش کی، بشرطیکہ دونوں ممالک آمادہ ہوں۔ روس نے شملہ معاہدے کے تحت دوطرفہ مذاکرات کی حمایت کی۔
1947، 1950، 1957 اور 1961 میں جب مسئلہ کشمیر اقوامِ متحدہ میں زیر بحث آیا تو اُس وقت کے سوویت یونین نے بھارت کے مؤقف کی حمایت کی اور سلامتی کونسل میں پاکستان کی حمایت یافتہ قراردادوں کو ویٹو کیا، جو کشمیر میں ریفرنڈم یا بین الاقوامی مداخلت کا تقاضا کرتی تھیں۔ سوویت یونین کا مؤقف تھا کہ کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ ہے۔
البتہ 1965 کی پاک بھارت جنگ کے بعد سوویت یونین نے نسبتاً غیر جانبدار ثالثی کا کردار ادا کیا۔ تاشقند معاہدہ (10 جنوری 1966) میں سوویت وزیرِ اعظم الیکسی کوسیگن نے پاکستانی صدر ایوب خان اور بھارتی وزیرِ اعظم لال بہادر شاستری کے درمیان مذاکرات کرائے۔ اس معاہدے نے جنگ کے خاتمے اور فوجی انخلا پر تو زور دیا لیکن کشمیر کے مستقل حل کے لیے کوئی ٹھوس تجویز نہ دی، البتہ دوطرفہ بات چیت پر حوصلہ افزائی ضرور کی گئی۔
مزید پڑھیں:شملہ معاہدے کی ‘خفیہ شق’ اور دائروں کا سفر
شملہ معاہدہ اور معاہدہ لاہور میں کیا تھا؟شملہ معاہدہ 1972 میں سقوطِ مشرقی پاکستان کے تناظر میں ہوا جبکہ معاہدہ لاہور فروری 1999 میں ایٹمی دھماکوں کے بعد طے پایا، جب دونوں ملکوں کے تعلقات انتہائی کشیدہ تھے۔
شملہ معاہدہ بھارت کے لیے بڑی کامیابی سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح سے ہٹا کر صرف پاک بھارت دو طرفہ فریم ورک تک محدود کردیا گیا۔ معاہدہ لاہور برابری کی سطح پر طے پایا اور اس میں دونوں ملکوں نے کشمیر سمیت تمام تنازعات پر جامع مذاکرات پر اتفاق کیا۔ تاہم اس کے فوراً بعد کارگل جنگ چھڑ گئی، جس نے دونوں ملکوں کے تعلقات کو شدید نقصان پہنچایا۔
گزشتہ کئی برس سے بھارت کا مؤقف یہ ہے کہ پاکستان کے ساتھ صرف دہشتگردی پر بات ہوگی، سرحدی تنازعات پر نہیں۔ 5 اگست 2019 کو بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کو اپنے ساتھ ضم کرکے یہ مؤقف مزید سخت کرلیا اور اب وہ صرف دہشت گردی یا پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر پر بات کرنے کی بات کرتا ہے۔
مزید پڑھیں:ایران میں 8 نئے جوہری بجلی گھر بنانے کے لیے روس سے معاہدہ اس ہفتے متوقع
ظاہر ہوتا ہے کہ روس مسئلہ کشمیر کو تسلیم کرتا ہے، سابق سفیر وحید احمدپاکستان کے سابق سفیر وحید احمد نے کہا کہ روسی سفیر کا بیان اہم ہے کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ روس مسئلہ کشمیر کو تسلیم کرتا ہے اور ثالثی کی پیشکش بھی کر چکا ہے۔ تاہم ثالثی اُس وقت ناکام ہوتی ہے جب ایک فریق اسے ماننے سے انکار کر دے۔ بھارت ہمیشہ اس مسئلے پر بات چیت سے گریز کرتا آیا ہے، اس لیے روس زور دیتا ہے کہ دونوں ممالک اسے دوطرفہ طریقے سے حل کریں۔
بیان ٹرمپ کی ثالثی پیشکش کو غیر مؤثر کرنے کی کوشش لگتا ہے، سابق سفارتکار نغمانہ ہاشمیسابق سفارتکار نغمانہ ہاشمی نے کہا کہ روسی سفیر کا بیان اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے متنازع مسائل دوطرفہ مذاکرات کے ذریعے ہی حل ہونے چاہئیں۔ چونکہ روس تاریخی طور پر بھارت کا اسٹریٹیجک اتحادی رہا ہے، اس لیے یہ بیان ایک طرح سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش کو غیر مؤثر کرنے کی کوشش بھی لگتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
البرٹ پی خوروف روس روسی سفیر شملہ معاہدہ لاہور معاہدہ مسئلہ کشمیر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: البرٹ پی خوروف روسی سفیر شملہ معاہدہ لاہور معاہدہ مسئلہ کشمیر معاہدہ لاہور شملہ معاہدہ دونوں ملکوں مسئلہ کشمیر پاکستان کے روسی سفیر کی پیشکش کشمیر کو بھارت کے کرتا ہے کرنے کی کہ روس کے لیے
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
پاکستان اور اٹلی نے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بناتے ہوئے سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے کے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس معاہدے کو دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں ایک انتہائی اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
معاہدے پر دستخط کی تقریب اور اہم ملاقاتاٹلی کے دارلحکومت روم میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران اٹلی میں تعینات پاکستانی سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا نے اس اہم معاہدے پر دستخط کیے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان اٹلی سے دفاعی تعاون کے فروغ اور باہمی تجربے سے مستفید ہونا چاہتا ہے، وزیردفاع
دستخطی تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ایک تفصیلی دو طرفہ ملاقات بھی ہوئی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی صورتحال اور بین الاقوامی فورمز، خصوصاً اقوام متحدہ اور یورپی یونین میں تعاون کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
باہمی اعتماد اور سفارتی وفود کا تبادلہسرکاری بیان کے مطابق دونوں فریقین نے وسعت اور مثبت سمت پر گامزن پاک، اٹلی تعلقات پراطمینان کا اظہار کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ نیا معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان موجود گہرے باہمی اعتماد، لازوال دوستی اور قریبی تعاون کی واضح علامت ہے۔ اس اقدام سے سرکاری اور سفارتی وفود کے تبادلوں میں حائل رکاوٹیں دور ہوں گی اور عوامی و حکومتی سطح پر روابط کو مزید فروغ ملے گا۔
پاک، اٹلی تعلقات کا تاریخی فریم ورکپاکستان اور اٹلی کے درمیان طویل عرصے سے مختلف شعبوں میں قریبی تعاون جاری ہے۔ اس وقت دونوں ممالک کے مابین 15 سرکاری معاہدے نافذ العمل ہیں، جو سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی تعلیم اور انسدادِ منشیات جیسے شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (ایم او یوز) بھی فعال ہیں۔
مزید پڑھیں:پاکستانی طالب علم اٹلی میں مفت اسکالرشپ اور لاکھوں روپے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟
دو طرفہ تعلقات کے اہم فریم ورک میں 2009 کا دفاعی تعاون معاہدہ، 2013 میں قائم کیا گیا اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان اور 2005 میں تشکیل دی گئی مشترکہ اقتصادی کمیشن شامل ہیں۔
اس سے قبل 1997 کا سرمایہ کاری تحفظ معاہدہ، 1983 کا دوہری شہریت کا معاہدہ اور 1972 کا حوالگیِ مجرمان معاہدہ بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم سنگِ میل سمجھے جاتے ہیں۔
پاکستانیوں کے لیے ’لیبر مائیگریشن‘ معاہدہ اور ملازمتیںرپورٹ کے مطابق 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان ’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘ کی ایک اہم ترین یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے۔ یہ کسی بھی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باضابطہ لیبر معاہدہ تھا، جس کے تحت پاکستانی ہنر مندوں کے لیے اٹلی میں 10,500 مخصوص ملازمتوں کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں، جو پاکستانی افرادی قوت کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔
سال 2026 کے اختتام پر اہم مذاکرات کی تیاریملاقات کے دوران سفیر علی جاوید نے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان ’دو طرفہ سیاسی مشاورت‘ کے ساتویں دور کا انعقاد کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سال 2026 کی آخری سہ ماہی میں ان مذاکرات کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے اسلام آباد میں اٹلی کے نئے تعمیر شدہ سفارت خانے کے جلد افتتاح کی خواہش کا بھی اظہار کیا، جو کہ دنیا بھر میں اٹلی کا سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا۔ یہ تمام اقدامات مستقبل میں دونوں ممالک کو معاشی، سفارتی اور عوامی سطح پر ایک دوسرے کے مزید قریب لے آئیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اٹلی اہم مذاکرات پاسپورٹ پاکستان علی جاوید لیبر مائیگریشن معاہدہ ملازمین