پنجاب اسمبلی، سانحہ 9مئی کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنانے کیلئے قرارداد جمع
اشاعت کی تاریخ: 11th, May 2025 GMT
قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ 9 مئی پاکستان کی تاریخ کا متنازعہ ترین سانحہ ہے، سانحے کے 2 سال گزرنے کے باوجود حقائق منظر عام پر نہیں لائے جاسکے۔ قرار داد میں مزید کہا گیا ہے کہ دو سال سے اس سانحہ کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے، کون سے خفیہ ہاتھ سانحہ میں ملوث تھے، آج تک ان ہاتھوں کا تعین نہیں ہو سکا۔ اسلام ٹائمز۔ سانحہ 9 مئی کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنانے کیلئے قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کروا دی گئی ہے۔ رکن پنجاب اسمبلی فرخ جاوید مون نے پنجاب اسمبلی میں قرارداد جمع کروائی۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ 9 مئی پاکستان کی تاریخ کا متنازعہ ترین سانحہ ہے، سانحے کے 2 سال گزرنے کے باوجود حقائق منظر عام پر نہیں لائے جاسکے۔ قرار داد میں مزید کہا گیا ہے کہ دو سال سے اس سانحہ کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے، کون سے خفیہ ہاتھ سانحہ میں ملوث تھے، آج تک ان ہاتھوں کا تعین نہیں ہو سکا۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایوان کی رائے ہے کہ سانحہ 9 مئی کی شفاف تحقیقات کیلئے جو ڈیشل کمیشن بنایا جائے، جوڈیشل کمیشن اس سانحہ میں ملوث پائے جانیوالے ذمہ داران کا تعین کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پنجاب اسمبلی گیا ہے کہ
پڑھیں:
ہولناک سانحہ، ایک شخص نے خاندان کے 6 افراد کو قتل کرکے خود کو گولی مار دی
واشنگٹن: امریکا کی ریاست آئیووا کے شہر مسکیٹین میں ایک افسوسناک فائرنگ کے واقعے میں ایک شخص نے اپنے ہی خاندان کے 6 افراد کو قتل کرنے کے بعد خودکشی کرلی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ واقعہ پیر کے روز مشرقی آئیووا کے شہر مسکیٹین میں پیش آیا، جو دریائے مسیسیپی کے کنارے واقع ہے۔
پولیس کے ابتدائی بیان کے مطابق واقعے کی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ فائرنگ کا تعلق ایک گھریلو یا خاندانی تنازع سے تھا، تاہم حکام نے ابھی تک تنازع کی نوعیت یا اس کے پس منظر کے بارے میں مزید تفصیلات جاری نہیں کیں۔
پولیس کو دوپہر کے وقت فائرنگ کی اطلاع موصول ہوئی، جس کے بعد اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچے تو ایک گھر کے اندر چار افراد کی لاشیں ملیں، جنہیں گولیاں مار کر قتل کیا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق مشتبہ ملزم موقع سے فرار ہوچکا تھا، تاہم جلد ہی اس کی شناخت 52 سالہ ریان ولیس میک فارلینڈ کے نام سے کرلی گئی، جو مسکیٹین کا رہائشی تھا۔
بعد ازاں پولیس نے ملزم کو شہر کے دریا کنارے واقع پیدل چلنے کے راستے کے قریب تلاش کرلیا۔ پولیس چیف انتھونی کیز کے مطابق جب افسران اس سے بات چیت کر رہے تھے تو اس نے خود کو گولی مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ واقعے میں مجموعی طور پر سات افراد ہلاک ہوئے، جن میں چھ خاندان کے افراد اور خود ملزم شامل ہے۔ پولیس نے مزید کہا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور تمام حقائق سامنے آنے کے بعد مزید معلومات فراہم کی جائیں گی۔
امریکا میں گھریلو تنازعات سے جڑے فائرنگ کے واقعات ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گئے ہیں، جبکہ اس افسوسناک سانحے نے مقامی کمیونٹی کو شدید صدمے میں مبتلا کردیا ہے۔