ممبر پارلیمنٹ نے کہا کہ اس سے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت ڈونالڈ ٹرمپ کے مشورہ کو قبول کرتے ہوئے جنگ بندی پر راضی ہوا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے بعد جنگ بندی کا اعلان ہونے کے دوسرے روز شیو سینا (ادھو ٹھاکرے) کے ممبر پارلیمنٹ سنجے راؤت نے جنگ بندی پر رضامندی کے لئے وزیر اعظم نریندر مودی پر تنقید کی ہے۔ سنجے راؤت نے الزام لگایا کہ بھارت نے صرف امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دباؤ میں جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کی۔ انہوں نے اس فیصلے کے منطقی اور وقت پر سوال اٹھائے، اس سلسلہ میں ٹرمپ کے بیانات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سنجے راؤت نے کہا کہ اس سے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت نے ٹرمپ کے مشورہ کو قبول کرتے ہوئے جنگ بندی پر راضی ہوا ہے۔ رکن پارلیمنٹ نے سوال کیا کہ بھارت 22 اپریل کو پہلگام دہشت گردانہ حملے کے جواب میں دفاعی کاروائی "آپریشن سندھور" کی تکمیل سے پہلے ہی جنگ بندی پر کیوں رضامند ہوگیا جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

سنجے راؤت نے میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ کی ثالثی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ "آپریشن سندھور" اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک ان دہشت گردوں کو ختم نہیں نہیں کیا جاتا، جنہوں نے پہلگام میں حملہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پھر بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے جنگ بندی پر رضامندی پر سوال اٹھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "مودی بار بار پاکستان میں گھس کر دہشت گردوں کو مارنے کی بات کرتے تھے، یہ مودی کی زبان تھی، لیکن اب وہ زبان کہاں گئی"۔ انہوں نے کہا کہ فوجی کارروائیوں کو روکنے سے عالمی سطح پر بھارت کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کے اس بیان کی طرف بھی اشارہ کیا جس میں انہوں نے جیت کا دعویٰ کیا۔

سنجے راؤت نے طنزیہ انداز میں سوال کیا کہ کیا جنگ بندی کا سہرا امریکہ کو دیا جانا چاہیئے۔ انہوں نے 26/11 کے ممبئی دہشت گردانہ حملوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی کی ماضی میں کی گئی تنقیدوں کو یاد دلایا جس میں انہوں نے کانگریس کو امریکی مداخلت پر تنقیدوں کا نشانہ بنایا تھا۔ سنجے راؤت نے اس کے بعد سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے پاکستان کے ساتھ 1971ء کی جنگ کے دوران امریکی مداخلت کے خلاف سخت موقف کو یاد کرتے ہوئے مودی پر زور دیا کہ وہ ایسا ہی عزم ظاہر کریں۔

انہوں نے اس معاملے پر فوری طور پر آل پارٹی میٹنگ طلب کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے پہلگام حملہ متاثرہ خواتین اور بیواؤں کی توہین کا الزام عائد کرتے ہوئے نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ سے استعفیٰ کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے سابق وزرائے اعظم جواہر لعل نہرو، اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کے خلاف اپنے ماضی کے تبصروں کے لئے نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور مشورہ دیا کہ انہیں ان کی قیادت سے سبق سیکھنا چاہیئے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کرتے ہوئے نے کہا کہ انہوں نے کہ بھارت ٹرمپ کے

پڑھیں:

اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام

پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔

Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026

انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔

دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا

انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔

It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026

ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔

انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان

پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔

انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور

صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔

انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب

متعلقہ مضامین

  • پٹرول کی قیمت میں 4 روپے اضافے پر شہری مایوس، فوری ریلیف کا مطالبہ
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی