Juraat:
2026-06-03@07:58:40 GMT

سندھ بھر میں جعلی ادویات کی فروخت کا انکشاف

اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT

سندھ بھر میں جعلی ادویات کی فروخت کا انکشاف

 

ڈرگ انسپکٹرز میڈیکل اسٹورز پر ادویات کی نگرانی اور معائنے میں ناکام
میڈیکل اسٹور غیر رجسٹرڈ اور غیر معیاری ادویات کی فروخت میں ملوث

کراچی سمیت سندھ بھر میں جعلی ادویات کی فروخت کا انکشاف ہوا ہے ، ڈرگ انسپکٹرز کے ذریعے جامع سیمپلنگ اور کوالٹی کنٹرول بورڈ کے اجلاس منعقد کرنے کی سفارش۔ جرأت کی رپورٹ کے مطابق ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو لیٹر ارسال کر کے آگاہ کیا ہے کہ سندھ سمیت پاکستان میں بڑے پیمانے میں جعلی اور غیر معیاری ادویات فروخت ہونے کی شکایت موصول ہوئی جس میں تحریر کیا گیا ہے کہ ڈرگ ایکٹ 1976 کے تحت ڈرگ انسپکٹرز میڈیکل اسٹورز پر ادویات کی نگرانی اور معائنے میں ناکام ہوئے ہیں، چھوٹے شہروں اور دیہی علائقوں میں میڈیکل اسٹور بڑے پیمانے پر غیر رجسٹرڈ اور غیر معیاری ادویات فروخت کرتے ہیں۔ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے مطابق جعلی اور غیر معیاری ادویات کے فروخت ہونے کی شکایت کا جائزہ لیا گیا تو الزامات درست نظر آتے ہیں اس لئے محکمہ صحت سندھ ادویات کی جامع سیمپلنگ کرے اور ڈرگس کی تمام کیٹیگریز کی ٹیسٹنگ کی جائے ، صوبائی کوالٹی کنٹرول بورڈ کے اجلاس معمول کے مطابق کئے جائیں تاکہ زیر التوی ریگیولیٹری معاملات حل جائیں، مارکیٹ کی صورتحال کی نگرانی کی جائے ، صوبائی حکومت ڈریپ ایکٹ 2012 کے تحت اقدامات کرے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

پڑھیں:

چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا

اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔

محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔

ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ
  • بجٹ 2026-27: جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا