مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے صدر ٹرمپ کے بیان کی کتنی اہمیت ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ ’ہزار سال‘ سے جاری کشمیر کے تنازع کو حل کرنے کے لیے بھارت اور پاکستان کے ساتھ مل کر کام کریں گے، ان کا یہ حالیہ بیان پاکستان بھارت اور کشمیری عوام کے لئے خاص اہمیت رکھتا ہے۔
صدر ٹرمپ کے مذکورہ بیان کو پاکستان کے حکومتی و سفارتی حلقے جہاں خوش آئند اور امید افزا قرار دے رہے ہیں وہیں بھارت ان کے اس بیان سے خاصا ناخوش نظر آتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مسئلہ کشمیر کے حل میں مدد کی پیشکش، وزیراعظم شہباز شریف کا ٹرمپ کے بیان کا خیرمقدم
شملہ معاہدے 1972 کی رو سے مسئلہ کشمیر ایک دو طرفہ معاملہ ہے اور اس پر دونوں ملک آپس میں بات چیت کر سکتے ہیں، جہاں بھارت کشمیر پر کسی بھی قسم کی ثالثی تو درکنار بات چیت کے لیے بھی آمادہ نہیں وہیں اس کا مؤقف ہے کہ اصل مسئلہ سرحد پار سے آنے والی دہشت گردی ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ اس مسئلے پر کسی تیسرے فریق کی ثالثی ممکن ہوسکتی ہے؟
سفارتی ماہرین صدر ٹرمپ کے اس بیان کو علامتی طور پر اہم سمجھتے ہیں۔
مائیکل کوگلمینجنوبی ایشیا امور کے امریکی ماہر تجزیہ کار مائیکل کوگلمین اسے ’ایک بڑی پیش رفت‘ قرار دیتے ہیں، ان کے خیال میں کیونکہ حالیہ برسوں میں پاک-بھارت مذاکرات محدود ہو کر رہ گئے تھے لہذا صدر ٹرمپ کا حالیہ بیان مذاکرات کے نئے در وا کرسکتا ہے۔
مائیکل کوگلمین لکھتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر پر پاک بھارت مذاکرات کی پیشکش کو بھارت یقیناً مسترد کر دے گا۔
عبد الباسطپاکستان کے سابق سفارتکار عبد الباسط نے ایک وی لاگ میں کہا کہ مسئلہ کشمیر حل کیے جانے سے متعلق صدر ٹرمپ کے بیان پر بھارت میں بہت غصہ ہے لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ صدر ٹرمپ کی تعریف کی جانی چاہیے کیونکہ انہوں نے کم از کم دونوں ملکوں کے بیچ مسئلے کی جڑ کو پکڑا ہے۔
’امریکی صدر کا یہ احساس کہ جموں کشمیر کا مسئلہ اصل مسئلے کی جڑ ہے، ایک خوش آئند اور حوصلہ افزا بات ہے، صدر ٹرمپ اگر اس معاملے کو آگے لے کر چلیں تو شاید اس کے کچھ نتائج نکل بھی آئیں۔‘
عبد الباسط کے مطابق بھارت اس معاملے میں ثالثی کو مسترد کرتا ہے لیکن ثالثی اگر نہ بھی ہو تو سہولت کاری ہو جائے۔ ’دیکھنا یہ ہے کہ اگر صدر ٹرمپ جموں کشمیر پہ خصوصی نمائندہ مقرر کرتے ہیں تو یہ اہم بات ہو گی لیکن ہمیں چین کو ساتھ رکھنا چاہیے کیونکہ چین اس مسئلے میں خود ایک فریق ہے اس لیے اس کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔‘
اعزاز چوہدریپاکستان کے سابق سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے عوام ایک دوسرے سے لڑائی نہیں چاہتے، یہ صرف وہاں ایک آر ایس ایس بریگیڈ کی حکومت ہے جو ایسا چاہتی ہے۔
’بھارت کو چاہیے کہ صدر ٹرمپ کی پیشکش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کے ساتھ کشمیر، دریائی پانی اور دیگر معاملات پر بات چیت کرے۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی صدر بھارت پاکستان ثالثی چین صدر ٹرمپ کشمیر مذاکرات.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا امریکی صدر بھارت پاکستان ثالثی چین مذاکرات مسئلہ کشمیر صدر ٹرمپ کے پاکستان کے کے لیے
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :