چین اور امریکا کے ٹیرف کا کچھ حصہ 90 دن کیلئے معطل
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ چین امریکا اقتصادی اور تجارتی تعلقات سے متعلق بات چیت کےلیے میکانزم قائم کریں گے، تجارتی بات چیت چین اور امریکا یا کسی تیسرے ملک میں بالترتیب ہو سکتی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ چین اور امریکا نے مشترکہ بیان میں اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بیجنگ اور واشنگٹن ایک دوسرے پر عائد ٹیرف کا کچھ حصہ 90 دن کےلیے معطل کر رہے ہیں۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ چین امریکا اقتصادی اور تجارتی تعلقات سے متعلق بات چیت کےلیے میکانزم قائم کریں گے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ تجارتی بات چیت چین اور امریکا یا کسی تیسرے ملک میں بالترتیب ہو سکتی ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز جنیوا میں امریکا اور چین کے درمیان تجارتی معاہدہ ہوا تھا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی صدر کو مذاکرات کے نتائج سے آگاہ کر دیا گیا۔ امریکی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ چین کے ساتھ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، تجارتی معاہدے کی تفصیلات صبح جاری کی جائیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: چین اور امریکا بات چیت
پڑھیں:
ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
واشنگٹن:امریکی سینیٹ میں ایران سے متعلق پالیسی پر اس وقت گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی جب ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو سخت سوالات کی زد میں لے لیا۔
سینیٹ اجلاس کے دوران کوری بُکر نے حکومت کی ایران پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر امریکا کیوں ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی طرف دوبارہ بڑھ رہا ہے اور وہ بھی ایسے وقت میں جب ماضی میں اسی ڈیل کو خود امریکا ناقابل قبول قرار دے چکا تھا۔
سینیٹر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کیا واشنگٹن اب اس معاہدے کے لیے دباؤ کا شکار ہو رہا ہے جسے پہلے مسترد کیا جا چکا تھا۔
بُکر نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق اقدامات اور خطے کی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے اس کے باوجود سفارتی راستہ کس بنیاد پر اختیار کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیںایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
جواب میں وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکا ایران سے کسی بھیک کی پوزیشن میں نہیں بلکہ یہ ایک پیچیدہ سفارتی اور تکنیکی عمل ہے۔
ان کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات جذباتی نہیں بلکہ انتہائی تکنیکی نوعیت کے ہیں، جو چند دنوں میں مکمل نہیں ہو سکتے۔
روبیو نے کہا کہ ماہرین کی سطح پر بات چیت ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکتی ہے تاکہ ایک قابلِ عمل حل نکالا جا سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اب ان بعض امور پر بات کرنے پر آمادہ ہوا ہے جن سے پہلے وہ انکار کرتا رہا ہے، خصوصاً افزودہ یورینیم کے معاملے پر پیش رفت کی ضرورت ہے۔