ارب پتیوں کی جائیدادیں پاکستانی میزائلوں سے بچانے کیلئے مودی نے امریکا کے پاؤں پکڑے، شیو سینا
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
بھارت(نیوز ڈیسک)شیو سینا نے پاکستان کے خلاف جنگ میں ناکامی پر فوری استعفیٰ اور کل جماعتی کانفرنس طلب کرنے کا مطالبہ کردیا
مودی حکومت کی بڑی اتحادی شیو سینا پارٹی نے بھارتی وزیراعظم سے پاکستان کے خلاف جنگ میں ناکامی پر فوری استعفیٰ اور کل جماعتی کانفرنس طلب کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق شیوسینا کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ نریندر مودی کو وزیر اعظم رہنے کا کوئی حق حاصل نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ مودی نے دہلی اور گجرات کے ارب پتیوں کی جائیدادیں پاکستان کے میزائلوں سے بچانے کیلئے امریکا کے پاؤں پکڑے۔
مسلمان و پاکستان مخالف شیوسینا نے دعویٰ کیا ہے کہ مودی نے پاکستان کے ساتھ جنگ بندی کے لئے امریکا سے اس وقت درخواست کی جب اسے علم ہوا کہ پاکستان کے میزائل نئی دہلی کے بعد اب گجرات /احمد آباد کو ہدف بنائیں گے جو مودی کی ریاست اور حلقہ ہے۔
بھارت میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے پوری صورتحال پر غور کے لئے پوری حزب اختلاف کی طرف سے پارلیمنٹ کا فوری اجلاس بلانے کا مطالبہ کردیا ہے اور اس مقصد کے لئے انہوں نے مودی کو خط ارسال کردیا ہے۔
بھارتی دارالحکومت کے حد درجہ قابل اعتماد ذرائع نے بتایا ہے کہ پورے بھارت میں پاکستان کے ساتھ لڑائی میں جنگ بندی کی دھائی دینے اور پورے ملک کو پاکستانی حملوں کے سامنے عریاں کرکے رکھ دینے پر وضاحتیں دینے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: پاکستان کے کا مطالبہ
پڑھیں:
پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
میانمار میں پاکستان کے سفیر طارق کریم(Tariq kareem) نے اپنی رہائش گاہ پر پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ کا اہتمام کیا۔
عشائیے میں یونین آف میانمار فیڈریشن آف چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (UMFCCI) کے صدر، نائب صدر، میانمار چیمبر آف کامرس فار فارماسیوٹیکل اینڈ میڈیکل ڈیوائسز (MCCPMD) کے چیئرمین، دیگر معروف کاروباری شخصیات اور فارمیٹیک پاکستان (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے وفد نے شرکت کی۔
اس موقع پر سفیر طارق کریم اور معزز مہمانوں کے درمیان خوشگوار اور بامقصد تبادلہ خیال ہوا، جس میں پاکستان اور میانمار کے درمیان تجارت و اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دینے، بالخصوص ادویہ سازی، ٹیکسٹائل اور دیگر اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے، جبکہ دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان براہ راست روابط (B2B Linkages) کو مضبوط بنانے کے امکانات پر گفتگو کی گئی