غذر میں پیپلزپارٹی کے زیر اہتمام یوم تشکر، پاک فوج کو شاندار خراج تحسین
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا ہر کارکن ملکی دفاع اور سلامتی کے لیے افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑا ہے اور ہمیشہ کھڑا رہے گا۔ افواجِ پاکستان کی کامیابی پر کارکنوں نے خوشی اور تشکر کا اظہار کرتے ہوئے قومی اتحاد و یکجہتی کے عزم کو دہرایا۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے زیر اہتمام ضلع غذر میں یوم تشکر منایا گیا اور پاک فوج کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ یوم تشکر کی تقریب میں پی پی کے صوبائی صدر امجد حسین ایڈووکیٹ اور صوبائی وزیر تعلیم غلام شہزاد آغا نے خصوصی شرکت کی۔ مقررین نے خطاب کرتے ہوئے افواجِ پاکستان خصوصاً پاک فضائیہ کے شاہینوں کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے قوم کا سر فخر سے بلند کیا اور دشمن کے غرور کو خاک میں ملا دیا جس کا اعتراف بین الاقوامی سطح پر بھی کیا گیا۔ تقریب سے پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے صدر امجد حسین ایڈووکیٹ، ضلع غذر کے صدر سید جلال علی شاہ، سابق وزیر تعلیم علی مدد شیر، وزیر تعلیم غلام شہزاد آغا، سینئر نائب صدر نور ولی، جنرل سیکریٹری وقار احمد مایا، ڈپٹی جنرل سیکریٹری وجاہت علی، ڈپٹی انفارمیشن سیکریٹری بدرالدین بدر اور دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔ تقریب کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا ہر کارکن ملکی دفاع اور سلامتی کے لیے افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑا ہے اور ہمیشہ کھڑا رہے گا۔ افواجِ پاکستان کی کامیابی پر کارکنوں نے خوشی اور تشکر کا اظہار کرتے ہوئے قومی اتحاد و یکجہتی کے عزم کو دہرایا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پاکستان پیپلز پارٹی کرتے ہوئے
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ