ابرار احمد اور کوئنٹن ڈی کاک کا شاندار کارنامہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان تیسرے اور آخری ون ڈے میچ میں قومی اسپنر ابرار احمد اور جنوبی افریقی وکٹ کیپر بیٹر کوئنٹن ڈی کاک نے شاندار سنگِ میل عبور کیے۔
اقبال اسٹیڈیم میں کھیلے گئے سیریز کے فیصلہ کن میچ میں جنوبی افریقہ نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا، آغاز میں کوئنٹن ڈی کاک نے شاندار بلے بازی کرتے ہوئے اپنی نصف سنچری مکمل کی اور 70 گیندوں پر 53 رنز بنائے جس میں 7 چوکے اور ایک چھکا شامل تھا۔
اس اننگز کے ساتھ ہی ڈی کاک نے ون ڈے کرکٹ میں 7000 رنز مکمل کر لیے، وہ یہ کارنامہ صرف 158 اننگز میں سرانجام دینے والے دنیا کے دوسرے تیز ترین کھلاڑی بن گئے، اس فہرست میں پہلے نمبر پر ان کے سابق ساتھی ہاشم آملہ ہیں جنہوں نے یہ سنگِ میل 150 اننگز میں عبور کیا تھا۔
تاہم ڈی کاک کی شاندار اننگ ٹیم کو بڑے اسکور تک پہنچانے میں معاون ثابت نہ ہوئی کیونکہ ابرار احمد نے تباہ کن بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 10 اوورز میں صرف 27 رنز کے عوض 4 وکٹیں حاصل کیں، جس کی بدولت مہمان ٹیم 37.
ابرار احمد کی اس شاندار کارکردگی کے ساتھ ان کی انٹرنیشنل وکٹوں کی تعداد 100 سے تجاوز کر گئی، 27 سالہ اسپنر نے 2022 میں بین الاقوامی کرکٹ میں ڈیبیو کیا تھا۔ وہ اب تک ٹیسٹ میں 46، ون ڈے میں 25 اور ٹی ٹوئنٹی میں 31 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔
ہدف کے تعاقب میں پاکستان نے صرف 3 وکٹوں کے نقصان پر 144 رنز بنا کر میچ باآسانی جیت لیا۔
پاکستان کی جانب سے صائم ایوب نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے 70 گیندوں پر 77 رنز کی اننگز کھیلی، جبکہ محمد رضوان نے 32 اور بابر اعظم نے 27 رنز بنائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ڈی کاک
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔