کوئٹہ، ایم ڈبلیو ایم ہزارہ ٹاؤن کا اجلاس، علاقہ کے مسائل پر گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
اجلاس میں تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ ہزارہ ٹاؤن کے سنگین عوامی مسائل پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین ہزارہ ٹاؤن کی نظارت کمیٹی کا ایک اہم مشاورتی اجلاس ضلعی آفس ہزارہ ٹاؤن میں منعقد ہوا۔ جس کی صدارت ضلعی صدر سید مہدی ابراہیمی نے کی۔ اجلاس میں مرکزی سیکرٹری نشر و اشاعت علامہ مقصود علی ڈومکی، صوبائی صدر علامہ سید ظفر عباس شمسی اور صوبائی جنرل سیکرٹری علامہ سہیل اکبر شیرازی نے خصوصی طور پر شرکت کی، جبکہ میں ضلعی نائب صدر آغا سید ضیاء، کابینہ کے دیگر اراکین ٹھیکیدار حسن علی، ناصر علی اور وحدت یوتھ ونگ کوئٹہ ڈویژن کے صدر حیدر علی ہزارہ سمیت دیگر ضلعی عہدیداران بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔
اجلاس میں تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ ہزارہ ٹاؤن کے سنگین عوامی مسائل پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ خاص طور پر منشیات کی بڑھتی ہوئی لعنت، بدامنی اور مہاجرین کے گھروں پر رات گئے چھاپوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اس موقع پر علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا منشیات کا بڑھتا ہوا استعمال ہماری نوجوان نسل کو تباہی کی طرف لے جا رہا ہے۔ یہ ایک معاشرتی ناسور ہے جس کے خلاف اجتماعی جدوجہد ناگزیر ہے۔ کوئٹہ میں رات کے وقت مہاجرین کے گھروں پر بغیر وارنٹ چھاپے انسانی وقار اور آئینی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے سوداگر دراصل نسلوں کے قاتل ہیں۔ یہ بااثر عناصر تعلیمی اداروں، بازاروں اور گلی محلوں میں زہر بیچ رہے ہیں اور بدقسمتی سے بعض اوقات انہیں حکومتی اداروں کی خاموش حمایت بھی حاصل ہوتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ہزارہ ٹاؤن اجلاس میں
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔