انڈیا کے 7 جہاز گرائے،بیس سے بتیس ٹارگٹ اینگیج کیے ،ارشد ملک
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
کراچی (ٹی وی رپورٹ) نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے کہا ہے کہ بھارت کو پہلی دفعہ پاکستان کے وجود کو تسلیم کرنا پڑ رہا ہے،دفاعی تجزیہ کار ایئر مارشل (ر) ارشد ملک نے کہا کہ انڈیا کے سات جہاز گرائے گئے ہیں اور ہم اس سے بھی آگے جاسکتے تھے۔ ساتواں جہاز وہ یو اے وی ہے جس پر یہ بہت نازاں تھے۔ ایک اور بات بہت وثوق سے بتانا چاہوں گا کہ ہم نے چوبیس سے بتیس ٹارگٹ اینگیج کیے ہیں کشمیر سمیت دوسرے معاملات حل ہوجاتے ہیں توفائدہ انڈیا کو ہوگا کیوں کہ جس طرح بی جے پی کی سوچ جارہی ہے اور اس کے نتائج بھیانک ہوں گے ۔ کشمیر کے علاوہ پانی اور دہشت گردی کا مسئلہ بہت اہم ہے،سابق سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے کہا کہ ہندوستان پر دبائو زیادہ ہے نفسیاتی دبائو بھی ہے انہوں نے اپنی عوام سے کہا تھا کہ پاکستان کو ملیا میٹ کردیں گے اور پھر ان کے گلے پڑ گئی انہیں اندازہ نہیں تھا کہ امریکہ بیچ میں اس طرح کی آفر کردے گا۔ سینیٹر طلال چوہدری نے کہا وزیراعظم شہباز شریف نے تمام فیڈرل منسٹر کی ہر ڈویژن میں ڈیوٹی لگائی ہے وہ شہداء کے گھر جائیں گے ۔دفاعی تجزیہ کار ایئر مارشل (ر) ارشد ملک نے کہا کہ پروین ساوہنی کا تعلق تھنک ٹینک سے ہے وہ ایماندار آدمی ہیں ہندوستان کے وائس چیف ایئر اسٹاف تھے جو رافیل کو دیکھ رہے تھے انہوں نے حکومت کو صاف کہا تھا کہ ابھی ہماری فورس عملی طور رافیل ایئرکرافٹ کے ساتھ تیار نہیں ہے ،یہ بات ریکارڈ پر ہے ان کو برطرف کر دیا گیا اور پھر اس اسٹوری کو کور کیا گیا۔ ہماری بات کرنے سے پہلے انہوں نے پہلے دن ہی کنفرم کر دیا تھا کہ کئی سورسز سے چیک کیا ہے کہ تین رافیل گر چکے ہیں۔ بہت ذمہ دار ذرائع سے میری بات ہوئی ہے کہ انڈیا کے سات جہاز گرائے گئے ہیں ۔ ہندوستان کی آج تک ابھی بھی بہت سی ویب سائٹس بلاک ہیں ۔ ہم نے آج تک ایئر فورس کا سائبر کمانڈ ڈویژن ڈکلیئر نہیں کیا تھا ، بابر صاحب دو ایسٹس اسپیس میں لائونچ کرچکے ہیں اور یہ جیم ہوا ہے ان کے جہاز فضا میں لاوارث گھوم رہے تھے ہمارے پاس آڈیو اور ویڈیو ریکارڈ ہیں کہ ایمرجنسی میں سری نگر میں رافیل کو اتارا اور یہ سب جو جیم کیا وہ اسپیس سے کیا گیا۔ سابق سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے کہا امریکہ نے شروع میں تین چار دن دیئے کہ اپنی طاقت دکھا دو ہم غیر جانبدار ہیں اور جب یہ پٹنے لگے تو وہ بیچ میں آئے تو یہ بھی صدمہ ہوا ہے کہ یہ کسی تھرڈ پارٹی کی ثالثی نہیں چاہتے ۔میزبان حامد میر نے تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا ارنب گواسمی مسلسل تین چار دن سے مجھے اور جیو ٹی وی کو ٹارگٹ کر رہے ہیں کہہ رہے ہیں کہ یہ چینل نہ دیکھیں یہ جھوٹ بول رہے ہیں ۔ ارنب گواسمی صحافی تو ہیں نہیں لیکن میں صحافی ہوں اور ان کو بی جے پی فنڈ کرتی ہے جبکہ میرے ٹی وی چینل کو کوئی پاکستان کی سیاسی پارٹی فنڈ نہیں کرتی بلکہ ہمارا ٹریک ریکارڈ ہے ہم زیر عتاب ہی ہوتے ہیں اس کے باوجود ہم سچائی کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔ ہماری انفارمیشن کے مطابق جو ہمیں ڈپلومیٹک سورسز سے ملی ہے مودی نے تھرڈ کنٹری جس کا تعلق ویسٹ سے ہے اس کو بیچ میں ڈال کر ٹرمپ کے ساتھ وعدہ کیا ہے کہ ہم پاکستان سے مذاکرات کریں گے لیکن ہمیں تھوڑا ٹائم چاہیے تاکہ ہم اپنی عوام کو اور سیاسی مخالفین کو راضی کرسکیں۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: چوہدری نے کہا تھا کہ
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.