Express News:
2026-06-02@23:39:44 GMT

یہ پاکستان کی بہت بڑی فتح، دنیا کا ماحول تبدیل ہو گیا

اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT

لاہور:

گروپ ایڈیٹر ایکسپریس نیوز ایاز خان کا کہنا ہے کہ 6 گھنٹے کی جنگ میں ایسا چھکا ہم نے مارا جو باؤنڈری سے باہر جا کر نہیں گرا، اسٹیڈیم سے باہر جا کر گرا، پوری دنیا نے دیکھ لیا کہ چھکا کس طرح سے ماراجاتا ہے، ایک چھکا شارجہ میں جاوید میانداد نے آخری بال پر مارا تھا انڈیا کے خلاف آج تک انڈیا اس کا درد نہیں بھول سکا تو یہ کہاں بھولے گا۔ 

ایکسپریس نیوز کے پروگرام کنٹرول روم میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہ ہم نے ورلڈ آرڈر چینج کر دیا لیٹرلی یہ کر کے، تجزیہ کار فیصل حسین نے کہا کہ یہ پاکستان کی اتنی بڑی فتح ہے اتنی بڑی فتح ہے کہ دنیا کا میکانزم تبدیل ہو گیا ہے، دنیا کا ماحول تبدیل ہو گیا ہے۔ بھارت یہ دعویدار تھا کہ وہ دنیا کی چوتھی بڑی آرمی ہے تو پاکستان نے دنیا کی چوتھی بڑی آرمی کو ہرا کہ اب اپنا مقام چوتھی بڑی آرمی پہ لکھ لیا ہے، دنیا کی چوتھی بڑی آرمی جو ہے وہ پاکستان ہے، پاکستان نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ مسلم امہ کی اگر کوئی سب سے بڑی عسکری قوت ہے تو وہ پاکستان ہے۔ 

تجزیہ کار عامر الیاس رانا نے کہا کہ ہم نے جو کہا ہے نہ کہ معرکہ حق، اس آپریشن کو نام دیا گیا ہے کہ مکمل ہو گیا ہے، اس کا مطلب ہے کہ ہمارے اور ان کے ڈی جی ایم اوز کی جو میٹنگ ہوئی آپ نے خود خبر میں بھی حوالہ دیا ہے، انڈینز نے کہا ہے کہ بات چیت جاری رہے گی تو ہماری طرف سے سیز فائر اس لحاظ سے کمپلیٹ ہو گیا، اب اگر کوئی چیز آئے گی غلط تو اس کا جواب نئے سرے سے دیا جائے گا کیونکہ کمپلیٹ کرنے کا مقصد ہے کہ پاکستان نے اپنی طرف سے دینا کو میسج دیا ہے کہ آپ بالکل بے فکر ہو جائیں، ہم نے جو وعدہ کیا ہے اس پر قائم ہیں اور ہم نہیں کریں گے۔ 

تجزیہ کار نوید حسین نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ ساحر لدھیانوی نے کہا تھا کہ جنگ تو خود ایک مسئلہ ہے، جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی، جنگ تو کسی کے حق میں نہیں، وہ پاکستان ہو، وہ انڈیا ہو، ہر دو ممالک جو ہیں ان کے حق میں جنگ نہیں ہے لیکن جب جنگ مسلط کی جاتی ہے، جنگ مسئلوں کا حل نہیں ہوتی، یہ ریئلائزیشن میرے خیال میں مودی کو بھی ہو جانی چاہیے، بی جے پی کو اور انڈینزکو بھی ہو جانی چاہیے۔ 

تجزیہ کار محمد الیاس نے کہا کہ پانی کا اور پاکستان میں جو دہشت گردی ہو رہی ہے ٹی ٹی پی اور بی ایل اے اس کے ساتھ شامل ہے تنظیمیں جو ہیں جو شامل ہیںاس کے تانے بانے جتنے بھی دہشت گردی کے ہوتے ہیں وہ بھارت جاتے ہیں، بھارت دوست ممالک کی سرحدوں کو استعمال کرتا ہے، پاکستان بارہا دنیا کے ممالک کو بتا چکا ہے کہ بھارت ان سب میں ملوث ہے، پانی کے بارے میں تو مذاکرات کریں گے اور کرنے چاہییں، پاکستان کو کشمیر اور پانی کے جو سندھ طاس معاہدے میں مزید جو تین دریاجو انہوں نے لیے تھے ہم سے ان کے پانی کی بحالی کے لیے بھی بات کرنی چاہیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: تجزیہ کار نے کہا کہ ہو گیا گیا ہے

پڑھیں:

بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔

اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔

مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔

بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU

— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔

ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔

انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔

مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو

چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔

انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی