امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کو کہا ہے کہ وہ جھگڑا چھوڑ کر تجارت کریں، انہیں کہا ہے کہ وہ نیوکلیئر میزائلوں کی ٹریڈ کے بجائے وہ ٹریڈ کریں جو ان کو خوبصورت بنائے، دونوں ملکوں  کی جنگ میں لاکھوں لوگ قتل ہوسکتے تھے ۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب امریکا انویسٹمنٹ فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی فوجیں طاقتور ہیں لیکن مجھے جنگیں پسند نہیں، کچھ دن پہلے پاکستان اور بھارت میں تاریخی سیز فائر کروایا، امریکی انتظامیہ نے دونوں ملکوں کے درمیان کامیابی سے جنگ بندی کروائی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ پاک، بھارت دوستوں کو کہا کہ جھگڑا چھوڑیں اور کچھ تجارت کریں، دونوں ملکوں کو کہا کہ نیوکلیئر میزائلوں کو چھوڑیں اور تجارت کا سوچیں، دونوں ملکوں کو کہا کہ وہ میزائل ٹریڈ نہ کریں، وہ ٹریڈ کریں جو آپ کو خوبصورت بنائے۔

’پاکستان اور بھارت کی قیادتیں مضبوط اور ذہین ہیں‘

امریکی صدر نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کی قیادتیں مضبوط اور ذہین ہیں، پاک، بھارت نے سیز فائر کیا ہے اور امید ہے وہ اسے برقرار رکھیں گے، مارکو روبیو، جے ڈی وینس کی کوششتوں سے دونوں ملک رکے، پاک بھارت جنگ بندی پر مارکو روبیو اور جے ڈی وینس کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کی جنگ میں لاکھوں لوگ قتل ہوسکتے تھے، دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی بڑھتی جارہی تھی، خوشی ہوئی کہ دونوں نے کشیدگی روک دی، دونوں ملکوں کے درمیان سیز فائر کروانے پر امریکی انتظامیہ پر فخر ہے۔

’پاکستان کی مدد سے داعش سے وابستہ عالمی دہشتگرد کو گرفتار کیا‘

ان کا کہنا تھا کہ جنوری سے اب تک امریکا نے 83 دہشتگردوں لیڈروں کو ختم کیا ہے، عراق، شام، صومالیہ سے کام کرنے والے دہشتگردوں کو ختم کیا جبکہ پاکستان کی مدد سے داعش سے وابستہ عالمی دہشتگرد کو گرفتار کیا، پاکستان کی مدد سے 13 امریکی اہلکاروں پر حملہ کرنے والے دہشتگرد کو گرفتار کیا۔

’حزب اللہ نے مشرق کا پیرس کہلانے والے شہر بیروت کی رونقیں تباہ کردی تھیں‘

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ حزب اللہ نے لبنانی عوام کو جنگیں اور بدامنی دی،حزب اللہ نے مشرق کا پیرس کہلانے والے شہر بیروت کی رونقیں تباہ کردی تھیں، ایران کی غلط پالیسیوں نے ملک کو ریگستان میں بدل دیا، دنیا میں امن کے لیے ایران کے ساتھ ڈیل کرنا چاہتے ہیں۔

’ایران کو یاد رکھنا چاہیے کہ امریکی پیشکش دائمی نہیں ہوگی‘

امریکی صدر نے کہا کہ جوبائیڈن کا حوثیوں کو دہشتگرد تنظیموں کی فہرست سے نکالنا بڑی غلطی تھی، ایران نے امن کی پیش کش کو نظر انداز کیا تو پابندیوں کے ذریعے سخت پالیسی اپنائیں گے، ایران کو یاد رکھنا چاہیے کہ امریکی پیشکش دائمی نہیں ہوگی، امریکا امن کے قیام کے لیے فوجی طاقت استعمال کررہا ہے۔

’حوثیوں نے بحری جہازوں پر حملے روکنے پر اتفاق کیا ہم نے بھی حملے روک دیے‘

انہوں نے کہا کہ امریکا اپنے دوستوں اور شراکت داروں کا تحفظ جاری رکھے گا، ہم کسی جنگ میں شامل نہیں ہوں گے، خونریزی روکنا ہوگی، حوثیوں نے بحری جہازوں پر حملے روکنے پر اتفاق کیا ہم نے بھی حملے روک دیے۔

’سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی درخواست پر شام پر پابندیاں اٹھانے کا فیصلہ کیا‘

ان کا کہنا تھا کہ ترک صدر کی خصوصی درخواست پر امریکی وزیرخارجہ شامی ہم منصب سے ملاقات کریں گے، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی درخواست پر شام پر پابندیاں اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے، شام کو نیا موقع مل رہا ہے، امید ہے شامی عوام کچھ کرکے دکھائیں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ دہشتگردی سے مشرق وسطیٰ میں بہت سارے لوگوں کی جانیں ضائع ہوئیں، غزہ کے عوام کے ساتھ ناروا سلوک ناقابل تصور ہے، یہ ڈراؤنا خواب ختم ہونا چاہیے۔

’امریکا سعودی عرب کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط بنائے گا‘

ان کا کہنا تھا کہ ان کا دورہ سعودی عرب کامیاب رہا، امریکا سعودی عرب کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط بنائے گا، چین نے امریکا پر عائد ٹیکسوں میں کمی لانے پر آمادگی ظاہر کی، ہم بھی مزید کمی لائیں گے، چین نے امریکی مصنوعات کے لیے دروازے کھولنے کی اجازت دیدی۔

انہوں نے کہا کہ امریکا میں بیوروکریسی کو بڑی حد تک محدود کردیا ہے۔ ’دنیا کے کئی ممالک معاہدوں کے لیے وائٹ ہاؤس کا دورہ کررہے ہیں، امریکا کے پاس دنیا کی بہترین معیشت ہے، میری موجودگی کے باعث امریکا دولت بنانے کے لیے پرکشش ترین ملک بن چکا ہے۔‘

’سعودی عرب اور یواے ای نے ریگستانی خطے کو ترقی کی راہ میں ڈال دیا‘

انہوں نے مزید کہا کہ یہ خطہ اپنے بیٹوں کی محنت اور لگن کی بدولت ترقی کی راہ پر گامزن ہے، سعودی عرب اور یواے ای نے ریگستانی خطے کو ترقی کی راہ میں ڈال دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news امریکا پاکستان ترکیے چین حوثی سعودی عرب شام غزہ لبنان یمن یو اے ای.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا پاکستان ترکیے چین یو اے ای پاکستان اور بھارت کی ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا دونوں ملکوں کہ پاکستان امریکی صدر نے کہا کہ انہوں نے کے ساتھ کو کہا کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ کر دیے گئے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کو دوبارہ منعقد کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ تقریب اب 24 جولائی کو منعقد ہوگی اور صدر ٹرمپ اس میں شرکت کریں گے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب میں شرکت کی دعوت قبول کر لی ہے۔ یہ تقریب واشنگٹن میں صحافیوں اور میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقد کی جاتی ہے اور امریکی سیاسی و میڈیا حلقوں کی اہم تقریبات میں شمار ہوتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ’پاگل عناصر‘ کو اپنی طرزِ زندگی یا اپنے شیڈول میں تبدیلی لانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی سرگرمیاں اور سرکاری تقریبات معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا وہ تقریب میں پہلے کی طرح سخت اور دوٹوک انداز میں خطاب کریں گے یا نہیں، تاہم اس بارے میں جلد ہی صورتحال واضح ہو جائے گی۔

صدر ٹرمپ کے مطابق یہ تقریب پنسلوانیا ایونیو پر واقع والڈورف آسٹوریا کے بال روم میں منعقد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس مقام کی تعمیر میں ان کا بھی کردار رہا ہے۔

یاد رہے کہ رواں سال اپریل میں واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس واقعے میں صدر ٹرمپ محفوظ رہے جبکہ حملہ آور کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔

بعد ازاں امریکی حکام نے ملزم پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کا باضابطہ الزام عائد کیا تھا، جس کے بعد سکیورٹی خدشات کے پیش نظر پریس ڈنر کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔

اب تقریب کی دوبارہ میزبانی کے اعلان کو صدر ٹرمپ کی معمول کی سرگرمیوں کی بحالی اور سکیورٹی اداروں کے اعتماد کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر
  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم