WE News:
2026-07-24@07:55:24 GMT

ستارے نہیں، موسم فیصلہ کرتا ہے

اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT

ستارے نہیں، موسم فیصلہ کرتا ہے

دنیا بھر کے ماہرینِ نفسیات اور سائنس دان اس بات پر متفق ہیں کہ موسموں کی تبدیلی صرف درختوں، ہواؤں یا درجہ حرارت پر ہی اثر انداز نہیں ہوتی، بلکہ انسانی ذہنی صحت پر بھی گہرے نقوش چھوڑتی ہے۔

خاص طور پر ماہِ ستمبر، جو گرمی کے طویل اور تھکا دینے والے دنوں کے بعد خزاں کے آغاز کی خبر دیتا ہے، انسانی ذہن اور جذبات پر ایک منفرد دباؤ پیدا کرتا ہے۔

ماہرین نے اس کیفیت کو ایک مخصوص اصطلاح بھی دی ہے: “Autumn Anxiety” یعنی خزاں کی بے چینی۔

پاکستان میں یہ رجحان تیزی سے نمایاں ہو رہا ہے اور بالخصوص اسلام آباد جیسے نسبتاً خوشحال اور تعلیم یافتہ شہر میں اس کی شدت زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ یہی رجحان دنیا کے دیگر خطوں میں بھی پایا جاتا ہے، جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ستمبر محض ایک مہینہ نہیں، بلکہ انسانی ذہنی و نفسیاتی منظرنامے میں ایک اہم موڑ ہے۔

پاکستان میں ستمبر اور نفسیاتی مسائل

تعلیمی دباؤ اور طلبہ

پاکستان میں تعلیمی نظام سال کے آغاز میں ہی ایک نئے دباؤ کے دور سے گزرتا ہے۔ ستمبر کے مہینے میں امتحانات کی تیاری، ہوم ورک کے بوجھ اور مستقبل کی غیر یقینی کیفیت طلبہ کے ذہن پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہی وہ وقت ہے جب طلبہ میں ڈپریشن اور بے چینی کی شرح دیگر مہینوں کے مقابلے میں زیادہ ریکارڈ کی جاتی ہے۔

معاشی دباؤ اور خاندان

ستمبر کا مہینہ والدین کے لیے مالی طور پر ایک کڑا امتحان بن جاتا ہے۔ اسکول فیس، کتابوں اور یونیفارم کے اخراجات کے ساتھ گھریلو ضروریات کا دباؤ والدین کو نفسیاتی طور پر متاثر کرتا ہے۔

اس کے نتیجے میں گھریلو جھگڑے، تلخ رویے اور تناؤ کی کیفیت جنم لیتی ہے، جو بچوں اور بڑوں سب کی ذہنی صحت پر اثر انداز ہوتی ہے۔

موسمی تبدیلیاں

ستمبر میں پاکستان کے بیشتر علاقوں میں مون سون کی نمی ختم ہو جاتی ہے اور موسم خشک ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ دن چھوٹے اور راتیں لمبی ہونے لگتی ہیں، جس سے انسان کا حیاتیاتی نظام (Circadian Rhythm) متاثر ہوتا ہے۔ نتیجہ؟ نیند کی کمی، تھکن اور موڈ کی خرابی۔

سماجی دباؤ

ستمبر کے بعد شادیوں اور تقریبات کا موسم شروع ہوتا ہے۔ لوگ پہلے سے ہی ذہنی طور پر اخراجات، تیاریوں اور سماجی میل جول کے دباؤ میں مبتلا رہتے ہیں۔ ماہرین اس کیفیت کو Anticipatory Stress یعنی ’آنے والے بوجھ کا دباؤ‘ قرار دیتے ہیں، جو بے چینی اور چڑچڑاپن کو بڑھا دیتا ہے۔

اسلام آباد میں ستمبر کا نفسیاتی منظرنامہ

پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد اپنی خوبصورتی، سبزہ زاروں اور پرامن ماحول کی وجہ سے منفرد حیثیت رکھتا ہے، مگر نفسیاتی مسائل سے یہ شہر بھی محفوظ نہیں۔

ماحولیاتی عوامل: اسلام آباد میں ستمبر کے دوران کبھی بارشیں تو کبھی خشک موسم رہتا ہے۔ یہ غیر یقینی کیفیت شہریوں کے موڈ پر منفی اثر ڈالتی ہے۔

تعلیمی و پیشہ ورانہ دباؤ: اسلام آباد یونیورسٹیوں، کالجوں اور سرکاری دفاتر کا مرکز ہے۔ ستمبر میں یہاں طلبہ کو نصابی بوجھ اور ملازمین کو نئی منصوبہ بندیوں کا دباؤ جھیلنا پڑتا ہے۔

سماجی رویے: یہاں کے شہری عمومی طور پر محدود سماجی زندگی رکھتے ہیں۔ لیکن ستمبر کے بعد بڑھتی تقریبات ان پر دباؤ میں اضافہ کرتی ہیں۔

ماہرین کا مشاہدہ: شہر کے ماہرینِ نفسیات کے مطابق ستمبر میں مریضوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔ ان میں زیادہ تر شکایات بے خوابی، ڈپریشن اور کام کے دباؤ سے متعلق ہوتی ہیں۔

دنیا میں کیا ہورہا ہے؟

موسمی افسردگی (Seasonal Affective Disorder – SAD)

یورپ اور شمالی امریکہ میں روشنی کم ہونے کے باعث لوگوں کی ذہنی کیفیت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ ستمبر کے آغاز کے ساتھ ہی ڈپریشن اور تنہائی کی شرح بڑھ جاتی ہے۔

مغربی دنیا میں بھی ستمبر بچوں اور والدین دونوں کے لیے دباؤ کا مہینہ ہے۔ نئی جماعت، نئے اساتذہ اور نیا نصاب بچوں کو پریشان کرتے ہیں، جبکہ والدین مالی اور وقت کی تقسیم کے دباؤ میں آتے ہیں۔

پیشہ ورانہ دباؤ

دفاتر میں ستمبر کے آغاز پر نئے اہداف اور منصوبے ملازمین پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ستمبر کو بعض ماہرین “Mental Health Challenge Month” بھی قرار دیتے ہیں۔

تحقیقی شواہد

بین الاقوامی مطالعات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ستمبر اور اکتوبر میں نفسیاتی مسائل جیسے ڈپریشن، بے چینی اور حتیٰ کہ خودکشی کی شرح میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

سائنس کیا کہتی ہے؟

روشنی کی کمی: سورج کی روشنی میں کمی دماغ میں سیرٹونن ہارمون کم کر دیتی ہے، جو خوشی اور توانائی کے لیے ضروری ہے۔

حیاتیاتی گھڑی کا بگاڑ: Circadian Rhythm متاثر ہونے سے نیند میں خلل، تھکن اور مزاج کی خرابی پیدا ہوتی ہے۔

سماجی و معاشی دباؤ: نئے اہداف اور تعلیمی بوجھ انسانی ذہنی صحت پر بوجھ ڈالتے ہیں۔

Anticipatory Stress: آنے والے مہینوں کی ذمہ داریوں کی سوچ دماغ پر بوجھ ڈالتی ہے۔

کیا اس کا کوئی حل ہے؟

روزانہ کم از کم 30 منٹ سورج کی روشنی میں گزاریں۔

باقاعدگی سے ورزش کریں۔

نیند کے اوقات کو متوازن رکھیں۔

دوستوں اور خاندان کے ساتھ سماجی روابط کو مضبوط کریں۔

اپنی کیفیت کا اظہار کریں، ڈپریشن کو اندر نہ رکھیں۔

اگر مسائل بڑھ جائیں تو ماہرِ نفسیات یا کونسلر سے رجوع کریں۔

ستمبر محض ایک مہینہ نہیں بلکہ انسانی ذہنی صحت کے لیے ایک امتحان ہے۔ پاکستان ہو یا یورپ، اسلام آباد ہو یا نیویارک، دنیا بھر میں ستمبر کے دوران انسانی دماغ اور جذبات پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

تاہم اگر بروقت آگاہی، صحت مند عادات اور ماہرین کی رہنمائی اختیار کی جائے تو اس “خزاں کی بے چینی” پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

سیدہ سفینہ ملک

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسلام آباد ستمبر کے بے چینی ہوتی ہے جاتی ہے کے آغاز کے ساتھ کے لیے

پڑھیں:

سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ نےسرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق جسٹس انعام امین منہاس نے کہاکہ پولیس اور ایف آئی اے کو درخواست مطلوب نہیں، عدالت نے کہاکہ جن کو چاہئے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہئے پھر اب تک نام کیو ں نہیں نکالا۔

ایف آئی اے نے کہاکہ یار محمد رند کا نام ای سی ایل نہیں ،صرف پی این آئی ایل میں ہے،سابق وفاقی وزیر کا نام پی این آئی ایل میں 28مارچ کو ڈالا گیا، پی این آئی ایل میں نام ایک ماہ رکھاجاتا، پھرتوسیع لینا ہوتی ہے۔

ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان

عدالت نے کہاکہ زیادہ سے زیادہ 60روز رکھ سکتےہیں، اب تو جولائی ہے، کتنے ماہ ہو گئے؟کس قانون کے تحت نام اب تک برقرار رکھا گیا؟ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آ رہے ہیں ، ہم کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث
  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز بعد بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • لاہور میں آج موسم ابرآلود، بارش کا کتنا امکان؟
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت