WE News:
2026-06-03@07:49:11 GMT

ستارے نہیں، موسم فیصلہ کرتا ہے

اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT

ستارے نہیں، موسم فیصلہ کرتا ہے

دنیا بھر کے ماہرینِ نفسیات اور سائنس دان اس بات پر متفق ہیں کہ موسموں کی تبدیلی صرف درختوں، ہواؤں یا درجہ حرارت پر ہی اثر انداز نہیں ہوتی، بلکہ انسانی ذہنی صحت پر بھی گہرے نقوش چھوڑتی ہے۔

خاص طور پر ماہِ ستمبر، جو گرمی کے طویل اور تھکا دینے والے دنوں کے بعد خزاں کے آغاز کی خبر دیتا ہے، انسانی ذہن اور جذبات پر ایک منفرد دباؤ پیدا کرتا ہے۔

ماہرین نے اس کیفیت کو ایک مخصوص اصطلاح بھی دی ہے: “Autumn Anxiety” یعنی خزاں کی بے چینی۔

پاکستان میں یہ رجحان تیزی سے نمایاں ہو رہا ہے اور بالخصوص اسلام آباد جیسے نسبتاً خوشحال اور تعلیم یافتہ شہر میں اس کی شدت زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ یہی رجحان دنیا کے دیگر خطوں میں بھی پایا جاتا ہے، جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ستمبر محض ایک مہینہ نہیں، بلکہ انسانی ذہنی و نفسیاتی منظرنامے میں ایک اہم موڑ ہے۔

پاکستان میں ستمبر اور نفسیاتی مسائل

تعلیمی دباؤ اور طلبہ

پاکستان میں تعلیمی نظام سال کے آغاز میں ہی ایک نئے دباؤ کے دور سے گزرتا ہے۔ ستمبر کے مہینے میں امتحانات کی تیاری، ہوم ورک کے بوجھ اور مستقبل کی غیر یقینی کیفیت طلبہ کے ذہن پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہی وہ وقت ہے جب طلبہ میں ڈپریشن اور بے چینی کی شرح دیگر مہینوں کے مقابلے میں زیادہ ریکارڈ کی جاتی ہے۔

معاشی دباؤ اور خاندان

ستمبر کا مہینہ والدین کے لیے مالی طور پر ایک کڑا امتحان بن جاتا ہے۔ اسکول فیس، کتابوں اور یونیفارم کے اخراجات کے ساتھ گھریلو ضروریات کا دباؤ والدین کو نفسیاتی طور پر متاثر کرتا ہے۔

اس کے نتیجے میں گھریلو جھگڑے، تلخ رویے اور تناؤ کی کیفیت جنم لیتی ہے، جو بچوں اور بڑوں سب کی ذہنی صحت پر اثر انداز ہوتی ہے۔

موسمی تبدیلیاں

ستمبر میں پاکستان کے بیشتر علاقوں میں مون سون کی نمی ختم ہو جاتی ہے اور موسم خشک ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ دن چھوٹے اور راتیں لمبی ہونے لگتی ہیں، جس سے انسان کا حیاتیاتی نظام (Circadian Rhythm) متاثر ہوتا ہے۔ نتیجہ؟ نیند کی کمی، تھکن اور موڈ کی خرابی۔

سماجی دباؤ

ستمبر کے بعد شادیوں اور تقریبات کا موسم شروع ہوتا ہے۔ لوگ پہلے سے ہی ذہنی طور پر اخراجات، تیاریوں اور سماجی میل جول کے دباؤ میں مبتلا رہتے ہیں۔ ماہرین اس کیفیت کو Anticipatory Stress یعنی ’آنے والے بوجھ کا دباؤ‘ قرار دیتے ہیں، جو بے چینی اور چڑچڑاپن کو بڑھا دیتا ہے۔

اسلام آباد میں ستمبر کا نفسیاتی منظرنامہ

پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد اپنی خوبصورتی، سبزہ زاروں اور پرامن ماحول کی وجہ سے منفرد حیثیت رکھتا ہے، مگر نفسیاتی مسائل سے یہ شہر بھی محفوظ نہیں۔

ماحولیاتی عوامل: اسلام آباد میں ستمبر کے دوران کبھی بارشیں تو کبھی خشک موسم رہتا ہے۔ یہ غیر یقینی کیفیت شہریوں کے موڈ پر منفی اثر ڈالتی ہے۔

تعلیمی و پیشہ ورانہ دباؤ: اسلام آباد یونیورسٹیوں، کالجوں اور سرکاری دفاتر کا مرکز ہے۔ ستمبر میں یہاں طلبہ کو نصابی بوجھ اور ملازمین کو نئی منصوبہ بندیوں کا دباؤ جھیلنا پڑتا ہے۔

سماجی رویے: یہاں کے شہری عمومی طور پر محدود سماجی زندگی رکھتے ہیں۔ لیکن ستمبر کے بعد بڑھتی تقریبات ان پر دباؤ میں اضافہ کرتی ہیں۔

ماہرین کا مشاہدہ: شہر کے ماہرینِ نفسیات کے مطابق ستمبر میں مریضوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔ ان میں زیادہ تر شکایات بے خوابی، ڈپریشن اور کام کے دباؤ سے متعلق ہوتی ہیں۔

دنیا میں کیا ہورہا ہے؟

موسمی افسردگی (Seasonal Affective Disorder – SAD)

یورپ اور شمالی امریکہ میں روشنی کم ہونے کے باعث لوگوں کی ذہنی کیفیت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ ستمبر کے آغاز کے ساتھ ہی ڈپریشن اور تنہائی کی شرح بڑھ جاتی ہے۔

مغربی دنیا میں بھی ستمبر بچوں اور والدین دونوں کے لیے دباؤ کا مہینہ ہے۔ نئی جماعت، نئے اساتذہ اور نیا نصاب بچوں کو پریشان کرتے ہیں، جبکہ والدین مالی اور وقت کی تقسیم کے دباؤ میں آتے ہیں۔

پیشہ ورانہ دباؤ

دفاتر میں ستمبر کے آغاز پر نئے اہداف اور منصوبے ملازمین پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ستمبر کو بعض ماہرین “Mental Health Challenge Month” بھی قرار دیتے ہیں۔

تحقیقی شواہد

بین الاقوامی مطالعات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ستمبر اور اکتوبر میں نفسیاتی مسائل جیسے ڈپریشن، بے چینی اور حتیٰ کہ خودکشی کی شرح میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

سائنس کیا کہتی ہے؟

روشنی کی کمی: سورج کی روشنی میں کمی دماغ میں سیرٹونن ہارمون کم کر دیتی ہے، جو خوشی اور توانائی کے لیے ضروری ہے۔

حیاتیاتی گھڑی کا بگاڑ: Circadian Rhythm متاثر ہونے سے نیند میں خلل، تھکن اور مزاج کی خرابی پیدا ہوتی ہے۔

سماجی و معاشی دباؤ: نئے اہداف اور تعلیمی بوجھ انسانی ذہنی صحت پر بوجھ ڈالتے ہیں۔

Anticipatory Stress: آنے والے مہینوں کی ذمہ داریوں کی سوچ دماغ پر بوجھ ڈالتی ہے۔

کیا اس کا کوئی حل ہے؟

روزانہ کم از کم 30 منٹ سورج کی روشنی میں گزاریں۔

باقاعدگی سے ورزش کریں۔

نیند کے اوقات کو متوازن رکھیں۔

دوستوں اور خاندان کے ساتھ سماجی روابط کو مضبوط کریں۔

اپنی کیفیت کا اظہار کریں، ڈپریشن کو اندر نہ رکھیں۔

اگر مسائل بڑھ جائیں تو ماہرِ نفسیات یا کونسلر سے رجوع کریں۔

ستمبر محض ایک مہینہ نہیں بلکہ انسانی ذہنی صحت کے لیے ایک امتحان ہے۔ پاکستان ہو یا یورپ، اسلام آباد ہو یا نیویارک، دنیا بھر میں ستمبر کے دوران انسانی دماغ اور جذبات پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

تاہم اگر بروقت آگاہی، صحت مند عادات اور ماہرین کی رہنمائی اختیار کی جائے تو اس “خزاں کی بے چینی” پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

سیدہ سفینہ ملک

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسلام آباد ستمبر کے بے چینی ہوتی ہے جاتی ہے کے آغاز کے ساتھ کے لیے

پڑھیں:

مہنگائی کے دباؤ میں مزدوروں کو ریلیف دینے کی سفارش، کم از کم تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے کی تجویز

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے حکومت کو سفارش کی ہے کہ مالی سال 2026-27 کے لیے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے کی جائے اور اس پر مؤثر و لازمی عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، خوراک اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور کمزور گھریلو معاشی حالات کے پیش نظر کم از کم اجرت کی پالیسی کو محض سالانہ اعلان کے بجائے ایک مؤثر سماجی و معاشی پالیسی کے طور پر اپنانا ضروری ہے۔

مالی سال 2026-27 کے بجٹ سے قبل حکومت کو بھجوائے گئے اپنے پالیسی نوٹ میں پائیڈ نے کہا ہے کہ مسلسل مہنگائی، خوراک اور توانائی کے شعبوں میں قیمتوں کے جھٹکوں، غیر رسمی روزگار کے پھیلاؤ اور گھریلو معاشی مشکلات کے ماحول میں کم از کم اجرت کی پالیسی کو ایک قابلِ اعتماد سماجی و معاشی آلے میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، جو ایک طرف مزدوروں کا تحفظ کرے اور دوسری جانب معاشی طور پر قابلِ عمل بھی ہو۔

یہ بھی پڑھیے بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟

ادارے نے سفارش کی کہ کم از کم اجرت کے سالانہ اعلانات کو محض علامتی یا صوابدیدی فیصلوں کے بجائے ایک شفاف اور قواعد و ضوابط پر مبنی نظام کے تحت طے کیا جائے، جس کی بنیاد مستند سرکاری اعداد و شمار اور بین الاقوامی محنت تنظیم (آئی ایل او) کے اصولوں پر ہو۔

پالیسی بریف میں کہا گیا ہے کہ مجوزہ طریقہ کار کسی ایک معاشی اشاریے یا من مانے اضافے پر انحصار کرنے کے بجائے قوتِ خرید کے تحفظ، مزدور اور اس کے خاندان کی بنیادی ضروریات، لیبر مارکیٹ کی استعداد، پیداواری صلاحیت میں جزوی شراکت اور صوبائی سطح پر عملدرآمد کی حقیقتوں کو مدنظر رکھتا ہے۔

پائیڈ کے مطابق اس اصلاحاتی فریم ورک کے چار بنیادی ستون ہیں: شواہد پر مبنی اور شفاف اجرت کا تعین، صوبائی سطح پر مناسب ایڈجسٹمنٹ، مؤثر نگرانی اور عملدرآمد کا نظام، اور اجرتوں کے تعین و نفاذ سے متعلق سالانہ رپورٹنگ۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال وفاقی حکومت نے کم از کم اجرت کا روایتی اعلان بھی نہیں کیا تھا۔ اس وقت وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا تھا کہ کاروباری ادارے پچھلے سال مقرر کی گئی کم از کم اجرت ادا کرنے کے لیے بھی تیار نہیں تھے۔

پائیڈ کا کہنا ہے کہ پاکستان بیورو آف شماریات اور وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے سرکاری اعداد و شمار پر مجوزہ فریم ورک کا اطلاق کرنے سے مالی سال 2026-27 کے لیے 45 ہزار روپے ماہانہ کی قومی کم از کم اجرت کا حوالہ جاتی معیار سامنے آتا ہے، جو موجودہ 40 ہزار روپے کی مقررہ اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد زیادہ ہے۔

پائیڈ کے وائس چانسلر ڈاکٹر ندیم جاوید نے کہا کہ کم از کم اجرت کی پالیسی محض سالانہ رسمی مشق نہیں رہ سکتی جو معاشی حقائق اور مزدوروں کی فلاح سے کٹی ہوئی ہو۔ ان کے بقول پاکستان کو ایک ایسا قابلِ اعتماد اجرتی نظام درکار ہے جو مزدوروں کے تحفظ، پیداواری صلاحیت، کاروباری پائیداری اور معاشی استحکام کے درمیان توازن قائم کر سکے۔

انہوں نے کہا کہ برآمدات پر مبنی ترقی اور سماجی استحکام کا خواہاں ملک محنت کش طبقے کی غربت، اجرتوں میں غیر یقینی صورتحال اور لیبر مارکیٹ کے منتشر نظام کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ پائیدار معاشی اصلاحات کا مقصد کارکنوں کو وقار، پیش بینی اور معاشی تحفظ فراہم کرنا بھی ہونا چاہیے۔

مجوزہ ’قومی حوالہ جاتی معیار اور صوبائی ایڈجسٹمنٹ‘ ماڈل کے تحت صوبوں کو یہ آئینی اختیار حاصل رہے گا کہ وہ مقامی معاشی حالات کے مطابق قومی کم از کم معیار کے برابر یا اس سے زیادہ اجرت مقرر کر سکیں۔

یہ بھی پڑھیے بجٹ 27-2026 میں کون سی اشیا سستی ہونے کا امکان ہے؟

پائیڈ کی تجویز کے مطابق پنجاب میں کم از کم اجرت 45 ہزار روپے، جبکہ شہری اخراجات اور رسمی شعبے میں روزگار کے زیادہ ارتکاز کی وجہ سے سندھ اور خیبر پختونخوا میں 46 ہزار روپے مقرر کی جا سکتی ہے۔ بلوچستان کے لیے جغرافیائی مسائل اور منڈیوں تک رسائی کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے 45 ہزار 500 روپے کی تجویز دی گئی ہے۔

مطالعے کے شریک مصنف اور پائیڈ میں معاشیات کے پروفیسر ڈاکٹر ایس ایم نعیم نواز نے کہا کہ مؤثر کم از کم اجرت وہی ہو سکتی ہے جو مزدور حقیقتاً حاصل کر سکیں اور صوبے مؤثر انداز میں نافذ کر سکیں۔

ان کے مطابق صرف افراطِ زر یا غربت کی لکیر کو بنیاد بنانے کے بجائے ایک جامع اور متوازن طریقہ کار اپنانا ضروری ہے، جو کاروباری استطاعت، عملدرآمد کی صلاحیت اور اس حقیقت کو بھی مدنظر رکھے کہ پاکستان میں تقریباً 80 فیصد روزگار اب بھی غیر رسمی شعبے سے وابستہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بجٹ

متعلقہ مضامین

  • کینیڈا کے کثیر القومی کلچر کو بھارتی ڈانس کلچر کی یلغار کا سامنا، سماجی ماہرین نے خبردار کر دیا
  • مہنگائی کے دباؤ میں مزدوروں کو ریلیف دینے کی سفارش، کم از کم تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے کی تجویز
  • ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟
  • کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر