کائنات کب ختم ہوگی؟ سائنس دانوں کا ہوشربا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
ایک نئی تحقیق میں سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ یہ کائنات ہماری سوچ سے زیادہ تیزی کے ساتھ اپنے انجام کو پہنچ رہی ہے۔
سائنس دانوں کی جانب سے کیے گئے اس ہوشربا انکشاف کے باوجود ان کا خیال ہے کہ دنیا کے اختتام میں ابھی کافی وقت (10^78 برس یعنی ایک کے ساتھ 78 صفر) ہے۔ اس سے قبل سائنس دانوں کا خیال تھا کہ کائنات کے پاس 10^1100 برس رہ گئے ہیں۔
یہ وقت سفید ڈوارف ستاروں کے مکمل طور پر ختم ہونے کے لیے کافی ہے۔ یہ ستارے کائنات میں سب سے زیادہ مدت تک وجود رکھنے والے اِجرام ہوتے ہیں۔
2023 کے ایک مقالے کے فالو اپ پر کی گئی نئی تحقیق میں بتایا گیا کہ صرف بلیک ہولز ہی نہیں بلکہ دیگر اِجرام بھی ہاکنگ ریڈی ایشن جیسے ایک عمل کے ذریعے بخارات بن سکتے ہیں۔
نئے مقالے میں محققین نے یہ سمجھنے کی کوشش کی ہے کہ اس عمل کو مکمل ہونے میں کتنا عرصہ لگ سکتا ہے۔
بلیک ہول ماہر اور نئی تحقیق کے سربراہ مصنف ہینو فیلکے کا کہنا تھا کہ کائنات کا حتمی اختتام توقع سے زیادہ جلدی ہوگا لیکن خوش قسمتی سے ایسا ہونے میں بھی کافی وقت لگے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔