منشا پاشا کی جبران ناصر سے علیحدگی کی خبروں کی تردید
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ منشا پاشا نے شوہر سماجی کارکن جبران ناصر سے علیحدگی کی خبروں کی تردید کردی۔
منشا پاشا نے حال ہی میں ایک پوڈ کاسٹ میں بطور مہمان شرکت کی جہاں اُنہوں نے سوشل میڈیا پر اپنی طلاق سے متعلق گردش کرتی خبروں کے بارے میں بات کی۔
اُنہوں نے کہا کہ جبران اکثر تقریبات میں میرے ساتھ شرکت نہیں کرتے اس لیے لوگوں کو لگتا ہے کہ ہمارا ایک دوسرے سے تعلق خراب ہے۔
اداکارہ کا کہنا ہے کہ اب سوشل میڈیا کا دور ہے تو تعلقات کی خوشگواری کو ناپنے کا پیمانہ بھی بدل گیا ہے تو اب آپ جتنا زیادہ سوشل میڈیا پر نظر آئیں گے دنیا کی نظر میں آپ اتنے ہی خوش ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ میرا یہ ماننا ہے کہ سوشل میڈیا پر 100 لوگوں کی جانب سے ہونے والی تنقید کا دباؤ صرف چند خاندان ہی برداشت کر سکتے ہیں اس لیے میں اور جبران اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہمارے گھر کا کوئی بھی معاملہ گھر سے باہر نہ نکلے۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا
پڑھیں:
سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بذات خود نشہ کرنے والا شخص کسی بھی جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور نہ ہی اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والے کو مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا کوئی حق حاصل ہے۔جیونیوز کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم ’سنی مسیح‘ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقراررکھنے کا حکم دے دیا۔
حملے کے بعد منسوخ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر دوبارہ کرنے کا اعلان
جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے کیس کا تحریری فیصلہ تحریر کیا ، جبکہ اس اہم کیس کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔دورانِ سماعت مجرم کے وکیل نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ واردات کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، لہٰذا اس بنیاد پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
عدالت نے اس استدعا کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔ عدالت نے رولنگ دی کہ رضاکارانہ نشے کو کسی بھی مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قانون کی تشریح کرتے ہوئے واضح کیا کہ جرم سے استثنیٰ صرف اور صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف (زبردستی) یا پھر اس کی لاعلمی میں کوئی نشہ آور چیز دی گئی ہو اور وہ اپنے حواس میں نہ ہو۔
پاکستانی نوجوان مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کے عشق میں لائن آف کنٹرول کے پار پہنچ گیا
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مجرم نے انتہائی بے دردی سے ایک کمسن اور معصوم بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا۔ یہ جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے جو کسی بھی رعایت کا متقاضی نہیں، لہٰذا مجرم کی اپیل خارج کی جاتی ہے۔
مزید :