بھارت کی سفارتی ناکامی: آپریشن سندور کے دوران اسے کسی ملک کی حمایت نہ ملی، انڈین ایکسپریس
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
اسلام آباد:
مودی سرکار کی سفارتی اور جنگی ناکامی پر نیو انڈین ایکسپریس کا چشم کشا آرٹیکل سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آپریشن سندور کے دوران بھارت کو کسی پڑوسی ملک کی حمایت حاصل نہ ہوسکی۔
انڈین ایکسپریس نے اپنے آرٹیکل میں کہا ہے کہ جنگ کے معاملے میں روس اور گلوبل ساؤتھ نے بھی غیر جانب داری اختیار کی، یورپی یونین کے ساتھ بھی بھارت کی سفارتی کشیدگی ظاہر ہوگئی، روس کی بے رخی نے بھارت کی خارجہ پالیسی کی کمزوریوں کو بے نقاب کردیا۔
انڈین ایکسپریس نے کہا کہ امریکی ثالثی کے بعد بھارت کی قیادت مایوسی اور انکار کی کیفیت میں مبتلا تھی، صدر ٹرمپ نے بھارت کو انتباہ کیا کہ اگر لڑائی نہ رکی تو تجارت بند کردی جائے گی جس سے بھارت کی خارجہ پالیسی پر سوالات کھڑے ہوگئے ہیں۔
انڈین ایکسپریس نے لکھا ہے کہ ٹرمپ نے بھارت کی کارروائی کو جارحیت قرار دیا، آپریشن سندور کی قانونی حیثیت پر عالمی سطح پر شکوک و شبہات ابھر رہے ہیں، بھارت کی جانب سے امریکی مفادات کے لیے یک طرفہ رعایتیں ہیں، بھارت نے وائٹ ہاؤس میں وزیرِ اعظم کی ملاقات کے لیے زمین و آسمان ایک کر دیے۔
انڈین ایکسپریس کے مطابق ٹرمپ سے ملاقات کے فوراً بعد بھارت نے غیر قانونی تارکین وطن کو ذلت آمیز انداز میں فوجی طیاروں کے ذریعے واپس لیا، بھارتی حکومت نے خودداری ترک کرتے ہوئے امریکی دباؤ پر تجارتی محصولات میں نرمی کر دی جس سے زرعی اشیاء بھی متاثر ہوئیں۔
اخبار نے لکھا ہے کہ امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حق میں بھارتی پالیسیوں اور قواعد و ضوابط کا ازسرِ نو جائزہ لیا جارہا ہے، نئی دہلی نے امریکی نیوکلیئر ری ایکٹر کمپنیوں کے لیے قوانین میں ترمیم کا وعدہ کیا جس سے قومی سلامتی پر سوالات کھڑے ہوگئے ہیں۔
آرٹیکل میں لکھا گیا ہے کہ بھارتی حکمران طبقہ کمپریڈر ایلیٹ ہے، جو مکمل طور پر امریکی مفادات کے تابع ہوچکا ہے، بھارت کی معاشی خودمختاری اور قومی وقار امریکی مفادات کے سامنے قربان ہوچکے ہیں جنہیں عوامی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔
انڈین ایکسپریس کے مطابق بھارت کی کارروائیوں پر انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے مذمت کی گئی جب کہ پاکستان نے اپنی ایٹمی صلاحیت مؤثر انداز میں منوالی، آپریشن سندور جیسے اقدامات بار بار دہرانے سے نتیجہ نہیں بدلے گا، صرف 100 گھنٹوں میں ناکامی کا سامنا ہوگا، بار بار کی عسکری مہم جوئی سے نہ صرف اثر ختم ہو گا بلکہ قیادت پر عوام کا اعتماد بھی متزلزل ہوگا۔
انڈین ایکسپریس نے لکھا کہ پاکستان ایک بڑی عسکری طاقت ہے، چند رن وے خراب کر دینا یا ریڈار جام کرنا پاکستان کو مرعوب نہیں کرسکتا، بھارت کے لیے بہتر ہے کہ ٹرمپ جیسے غیر متعصب ثالث سے مدد لے کر مسئلہ حل کرے اور آگے بڑھے۔
اخبار نے لکھا کہ ہمیں ہر کچھ عرصے بعد نئی فوجی حکمتِ عملی کا خواب دیکھنا بند کرنا ہو گا، پاکستان ایک ماہر ملک ہے، پاکستان جلد ہی بھارتی حکمت عملی کا مؤثر جواب تیار کر لیتا ہے بھارت کو اپنی ناکام قیادت پر نظر ثانی اور پاکستان کی جوابی صلاحیت کا ادراک کرنا ہوگا۔
انڈین ایکسپریس نے تجزیہ کیا کہ بھارت کی قیادت امریکی دباؤ کے سامنے جھک گئی جس سے قومی خودمختاری پر سوالات پیدا ہوگئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انڈین ایکسپریس نے بھارت کی نے لکھا کے لیے
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔