Nawaiwaqt:
2026-07-24@03:43:30 GMT

دی سمپسنز کارٹون کے تخلیق کار اسٹیو پیپون انتقال کرگئے

اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT

دی سمپسنز کارٹون کے تخلیق کار اسٹیو پیپون انتقال کرگئے

امریکی ٹیلی ویژن کی تاریخ کے سب سے مقبول اینیمیٹڈ سیریز ’’دی سمپسنز‘‘ کے ایمی ایوارڈ یافتہ مصنف اسٹیو پیپون 68 سال کی عمر میں داعیٔ اجل کو لبیک کہہ گئے۔اسٹیو پیپون کی اہلیہ میری اسٹیفنسن نے اس المناک واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وہ کافی عرصے سے دل کی بیماری ’کارڈیک ایمائیلوئیڈوسس‘ کا شکار تھے۔پیپون نے اپنے کیریئر کا آغاز 1989 میں ’’دی سمپسنز‘‘ سے کیا تھا، جو آج تک دنیا بھر میں مقبول ہے۔ ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو 1991 میں اس وقت بین الاقوامی پذیرائی ملی جب ان کی لکھی ہوئی قسط "Homer vs.

Lisa and the 8th Commandment" نے ایمی ایوارڈ اپنے نام کیا۔ان کی پیشہ ورانہ زندگی کا ایک اور قابل ذکر پہلو یہ تھا کہ ’’دی سمپسنز‘‘ میں پیش کی گئی کہانیوں نے کئی بار حقیقت کا روپ دھار لیا۔ 1993 میں ایک وبائی بیماری کی پیش گوئی سے لے کر 2021 میں خلائی سیاحت کی درست پیش گوئی تک، یہ سیریز ہمیشہ سے معاشرتی رجحانات کو بے نقاب کرتی رہی ہے۔پیپون نے نہ صرف ’’دی سمپسنز‘‘ بلکہ ’’روزین‘‘ اور ’’دی وائلڈ تھورن بیریز‘‘ جیسے مشہور شوز کےلیے بھی یادگار تحریریں تخلیق کیں۔ ان کی تحریروں میں طنز اور مزاح کے ساتھ ساتھ گہرے اخلاقی سوالات بھی پوشیدہ ہوتے تھے۔ان کی وفات نہ صرف ان کے خاندان بلکہ پوری ٹیلی ویژن انڈسٹری کےلیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ پیپون کی تخلیقات نے نہ صرف امریکی بلکہ عالمی ثقافت پر گہرا اثر چھوڑا ہے  اور ان کا کام آنے والی نسلوں کو متاثر کرتا رہے گا۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام

واشنگٹن:

امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

https://t.co/Wtbk84dEsc

— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026

سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے